BR100 Decreased By (-0.89%)
BR30 Decreased By (-1.54%)
KSE100 Decreased By (-0.8%)
KSE30 Decreased By (-0.8%)
BAFL 56.63 Decreased By ▼ -0.24 (-0.42%)
BIPL 24.90 Decreased By ▼ -0.06 (-0.24%)
BOP 30.09 Decreased By ▼ -0.26 (-0.86%)
CNERGY 12.90 Decreased By ▼ -0.22 (-1.68%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 188.00 Decreased By ▼ -4.45 (-2.31%)
FABL 93.98 Decreased By ▼ -0.16 (-0.17%)
FCCL 52.00 Decreased By ▼ -0.79 (-1.5%)
FFL 14.47 Decreased By ▼ -0.25 (-1.7%)
GGL 19.00 Decreased By ▼ -0.56 (-2.86%)
HBL 304.89 Decreased By ▼ -1.21 (-0.4%)
HUBC 199.00 Decreased By ▼ -2.42 (-1.2%)
HUMNL 9.99 Decreased By ▼ -0.17 (-1.67%)
KEL 6.10 Increased By ▲ 0.01 (0.16%)
LOTCHEM 26.20 Decreased By ▼ -0.26 (-0.98%)
MLCF 90.87 Decreased By ▼ -2.29 (-2.46%)
OGDC 312.96 Decreased By ▼ -3.77 (-1.19%)
PAEL 35.08 Decreased By ▼ -0.55 (-1.54%)
PIBTL 14.66 Decreased By ▼ -0.02 (-0.14%)
PIOC 238.50 Decreased By ▼ -4.71 (-1.94%)
PPL 220.97 Decreased By ▼ -5.94 (-2.62%)
PRL 90.90 Decreased By ▼ -2.12 (-2.28%)
SNGP 90.94 Decreased By ▼ -0.90 (-0.98%)
SSGC 23.25 Decreased By ▼ -0.56 (-2.35%)
TELE 7.53 Decreased By ▼ -0.27 (-3.46%)
TPLP 12.55 Decreased By ▼ -0.42 (-3.24%)
TRG 56.20 Decreased By ▼ -0.36 (-0.64%)
UNITY 8.07 No Change ▼ 0.00 (0%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

آئل ٹینکر کنٹریکٹرز کے تحفظات دور کرنے کے لیے کمیٹی قائم، وزیرِ پٹرولیم نے ایک ہفتے میں سفارشات طلب کرلیں

  • آئل ٹینکر انڈسٹری کو درپیش مسائل کے حل کے لیے دونوں فریقین کا مشترکہ اقدام پر اتفاق
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک نے آئل ٹینکرز کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن (او ٹی سی اے) کے تحفظات دور کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کر دی اور اسے ایک ہفتے کے اندر اپنی سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

یہ فیصلہ او ٹی سی اے کے صدر عابد اللہ آفریدی کی قیادت میں آنے والے وفد کے ساتھ ایک اجلاس کے دوران کیا گیا، جہاں دونوں فریقین نے آئل ٹینکر انڈسٹری کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنے پر اتفاق کیا۔پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس کمیٹی کی سربراہی اسپیشل سیکریٹری پٹرولیم کریں گے جبکہ ڈائریکٹر جنرل (آئل)، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے نمائندے، او ٹی سی اے اور آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) کے سیکریٹری جنرل اس میں شامل ہوں گے۔

او ٹی سی اے نے کئی مطالبات پیش کیے، جن میں وائٹ آئل پائپ لائن کو مختص کوٹہ کم کرنا، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کی جانب سے مال برداری (فریٹ) کے معائدے دینے کا شفاف طریقہ کار متعارف کرانا، فریٹ فارمولے کو کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) سے منسلک کرنا اور کمرشل لوڈنگ کا فوری خاتمہ شامل ہے۔وفاقی وزیر نے اوگرا کو ٹھیکیداروں کے جائز تحفظات دور کرنے کے لیے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ہدایت کی اور او ایم سیز سے کہا کہ وہ مال برداری کے معائدے دینے کی اپنی تحریری پالیسیاں جمع کرائیں، تاکہ کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک کی نشان دہی کر کے اسے ختم کیا جا سکے۔انہوں نے ریگولیٹر کو آئل ٹینکرز کی مؤثر ٹریکنگ کو یقینی بنانے اور ڈیلروں کی گاڑیوں کو بنیادی ترسیل میں استعمال ہونے سے روکنے کی ہدایت بھی کی۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت کی ترجیح ایندھن کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا اور عوام کو سہولت فراہم کرنا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو قومی مفاد میں مل کر کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے جائز تحفظات کو مشاورت کے ذریعے حل کیا جائے گا۔او ٹی سی اے نے کمیٹی کے قیام کا خیرمقدم کیا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ دیرینہ مسائل بات چیت کے ذریعے حل ہو جائیں گے۔

Comments

200 حروف