این جی سی ٹیلی کمیونیکیشن اور اسکاڈا اپ گریڈیشن پر نظرثانی شدہ منصوبہ منظور
- منصوبے کی مجموعی لاگت 50.374 ارب روپے ہے، جن میں سے 43.515 ارب روپے غیر ملکی زرِ مبادلہ پر مشتمل ہیں
حکومت نے نیشنل گرڈ کمپنی کے ٹیلی کمیونیکیشن اور اسکاڈا سسٹم کی اپ گریڈیشن کے نظرثانی شدہ منصوبے کی منظوری دے دی ہے، جس کی مجموعی لاگت 50.374 ارب روپے ہے، جن میں سے 43.515 ارب روپے غیر ملکی زرِ مبادلہ پر مشتمل ہیں۔ ساتھ ہی پاور ڈویژن اور نیشنل گرڈ کمپنی کو ہدایت کی گئی ہے کہ منصوبوں پر عمل درآمد کے نظام کو مضبوط بنایا جائے اور ٹرانسمیشن و گرڈ منصوبوں کو تیز رفتار بنیادوں پر مکمل کیا جائے تاکہ لاگت اور وقت میں اضافے سے بچا جا سکے، خاص طور پر بیرونی مالی معاونت سے چلنے والے بڑے منصوبوں پر عملدرآمد بہتر انداز میں ہوسکے۔
یہ منصوبہ لوڈ ڈسپیچ سسٹم فیز تھری کی اپ گریڈیشن اور این ٹی ڈی سی کے ٹیلی کام نظام کی مکمل بحالی پر مشتمل ہے۔ اس کا مقصد باقی ماندہ اور نئے پاور پلانٹس اور گرڈ اسٹیشنز کو موجودہ لوڈ ڈسپیچ سسٹم سے منسلک کرنا اور قومی گرڈ میں جدید ٹیلی کمیونیکیشن سہولیات فراہم کرنا ہے۔
منصوبے میں 115 نئے ریموٹ ٹرمینل یونٹس کی تنصیب، ایل ڈی ایس ٹو کے 46 یونٹس کا انضمام، 57 مقامات پر مائیکرو ویو بیک اپ سسٹم، 3,675 کلومیٹر آپٹیکل گراؤنڈ وائر کی لائیو لائن تنصیب، 188 میٹرنگ سائٹس کا ڈیٹا این ٹی ڈی سی نیٹ ورک پر منتقل کرنا اور ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی مکمل بہتری شامل ہے۔
اس منصوبے کا اصل پی سی ون 2018 میں 11.638 ارب روپے کی لاگت سے منظور ہوا تھا، تاہم نظرثانی کے بعد لاگت میں 332 فیصد سے زائد اضافہ سامنے آیا۔ پلاننگ کمیشن نے اس اضافے پر سوالات اٹھاتے ہوئے دائرہ کار میں تبدیلی، آلات کی قیمتوں میں اضافہ، درآمدی ڈیوٹی، زر مبادلہ کی شرح، تعمیر کے دوران سود اور تاخیر کو وجوہات قرار دیا۔
نظرثانی شدہ منصوبے کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک 48.4 ارب روپے فراہم کر رہا ہے جبکہ نیشنل گرڈ کمپنی کا حصہ 1.957 ارب روپے ہے۔ حکام کے مطابق تاخیر کی وجوہات میں کورونا کے بعد سیمی کنڈکٹرز کی قلت، مائیکرو ویو اسپیکٹرم کی تاخیر سے دستیابی، سکیورٹی تقاضے اور سیلاب شامل تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ منصوبہ مکمل ہونے پر قومی بجلی نظام کی مکمل نگرانی ممکن ہوگی، بلیک آؤٹس کی روک تھام میں مدد ملے گی اور بجلی کی ترسیل زیادہ مستحکم اور مؤثر ہو جائے گی۔ منصوبہ اب حتمی منظوری کے لیے ایکنک کو بھجوا دیا گیا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026






















Comments