BR100 Decreased By (-0.95%)
BR30 Decreased By (-1.6%)
KSE100 Decreased By (-0.82%)
KSE30 Decreased By (-0.83%)
BAFL 56.50 Decreased By ▼ -0.37 (-0.65%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.06 Decreased By ▼ -0.29 (-0.96%)
CNERGY 12.90 Decreased By ▼ -0.22 (-1.68%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.99 Decreased By ▼ -4.46 (-2.32%)
FABL 93.89 Decreased By ▼ -0.25 (-0.27%)
FCCL 52.00 Decreased By ▼ -0.79 (-1.5%)
FFL 14.48 Decreased By ▼ -0.24 (-1.63%)
GGL 19.00 Decreased By ▼ -0.56 (-2.86%)
HBL 304.00 Decreased By ▼ -2.10 (-0.69%)
HUBC 199.00 Decreased By ▼ -2.42 (-1.2%)
HUMNL 9.99 Decreased By ▼ -0.17 (-1.67%)
KEL 6.10 Increased By ▲ 0.01 (0.16%)
LOTCHEM 26.11 Decreased By ▼ -0.35 (-1.32%)
MLCF 90.90 Decreased By ▼ -2.26 (-2.43%)
OGDC 313.00 Decreased By ▼ -3.73 (-1.18%)
PAEL 35.10 Decreased By ▼ -0.53 (-1.49%)
PIBTL 14.68 No Change ▼ 0.00 (0%)
PIOC 238.50 Decreased By ▼ -4.71 (-1.94%)
PPL 220.99 Decreased By ▼ -5.92 (-2.61%)
PRL 90.85 Decreased By ▼ -2.17 (-2.33%)
SNGP 90.55 Decreased By ▼ -1.29 (-1.4%)
SSGC 23.21 Decreased By ▼ -0.60 (-2.52%)
TELE 7.52 Decreased By ▼ -0.28 (-3.59%)
TPLP 12.55 Decreased By ▼ -0.42 (-3.24%)
TRG 56.15 Decreased By ▼ -0.41 (-0.72%)
UNITY 8.06 Decreased By ▼ -0.01 (-0.12%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

پاور سیکٹر کیلئے 36 ارب ڈالر کے قرضے، حکومت کی سعودی عرب اور مالیاتی اداروں سے بات چیت

  • قرضے مالی سال 2027 سے شروع ہونے والے 13 سال کے دوران پاور سیکٹر کے قرض کی ادائیگی کے بوجھ کو ری فنانس کرنے کے لیے استعمال ہوں گے
شائع اپ ڈیٹ

حکومت بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور سعودی عرب سے 36 ارب ڈالر کے قرضوں کے حصول کے لیے بات چیت کر رہی ہے، جو مالی سال 2027 سے شروع ہونے والے 13 سال کے دوران پاور سیکٹر کے قرض کی ادائیگی کے بوجھ کو ری فنانس کرنے کے لیے استعمال ہوں گے۔ باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ اس اقدام کا مقصد بجلی کے نرخ، کم کرنا ہے خصوصاً صنعت کو ریلیف دینا ہے۔

ذرائع کے مطابق عالمی بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک سمیت دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے زیرِ بحث سود کی شرح تقریباً 2 فیصد ہے، جبکہ سعودی عرب سے کم شرح سود یعنی 1 فیصد پر فنڈنگ کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ پاور ڈویژن نے حالیہ مہینوں میں ای ڈی بی اور عالمی بینک کے ساتھ ملاقاتوں میں ری فنانسنگ کے اپنے منصوبے پیش کیے ہیں۔

مجوزہ منصوبے کے تحت قرض کی ادائیگی 13 سال کے دوران درج ذیل شیڈول کے مطابق ہوگی: مالی سال 27 میں 4.40 ارب ڈالر، مالی سال 28 میں 4.18 ارب، مالی سال 29 میں 4.44 ارب، مالی سال 30 میں 3.97 ارب ڈالر، مالی سال 31 میں 3.19 ارب ڈالر، مالی سال 32 میں 3.22 ارب ڈالر، مالی سال 33 میں 2.91 ارب ڈالر، مالی سال 34 میں 2.52 ارب ڈالر، مالی سال 35 میں 2.22 ارب ڈالر، مالی سال 36 میں 1.40 ارب ڈالر، مالی سال 37 میں 1.36 ارب ڈالر، مالی سال 38 میں 1.28 ارب ڈالر اور مالی سال 39 میں 1.21 ارب ڈالر۔

اس وقت پاور سیکٹر کا گردشی قرض تقریباً 1.8 ٹریلین روپے ہے، تاہم حکومت نے 30 جون 2026 تک اسے 1.6 ٹریلین روپے تک محدود کرنے کا عزم کیا ہے۔ حکومت نے حال ہی میں تجارتی بینکوں سے 1.225 ٹریلین روپے حاصل کیے تاکہ گردشی قرض کو کم کیا جا سکے اور آئندہ چھ سال تک ڈیٹ سروس چارج کی وصولی کو 3.23 روپے فی یونٹ پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اسے بالآخر صفر تک لایا جا سکے۔

اگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے 2 فیصد سود پر قرض حاصل کیا گیا تو صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی شرح مالی سال 27 میں 8.70 سینٹ فی یونٹ ہوگی، مالی سال 28 میں 8.48 سینٹ، مالی سال 29 میں 8.23 سینٹ، مالی سال 30 میں 8.34 سینٹ، مالی سال 31 میں 8.66 سینٹ، مالی سال 32 میں 8.56 سینٹ، مالی سال 33 میں 8.72 سینٹ، مالی سال 34 میں 9.08 سینٹ، مالی سال 35 میں 9.18 سینٹ، مالی سال 36 میں 9.59 سینٹ، مالی سال 37 میں 9.46 سینٹ، مالی سال 38 میں 9.34 سینٹ اور مالی سال 39 میں 9.18 سینٹ فی یونٹ ہوگی۔

اگر قرض سعودی عرب سے ایک فیصد سود پر حاصل کیا گیا تو صنعتی صارفین کے لیے نئی شرح مالی سال 27 میں 8.62 سینٹ، مالی سال 28 میں 8.34 سینٹ، مالی سال 29 میں 8.02 سینٹ، مالی سال 30 میں 8.12 سینٹ، مالی سال 31 میں 8.45 سینٹ، مالی سال 32 میں 8.35 سینٹ، مالی سال 33 میں 8.52 سینٹ، مالی سال 34 میں 8.88 سینٹ، مالی سال 35 میں 8.99 سینٹ، مالی سال 36 میں 9.42 سینٹ،مالی سال 37 میں 9.30 سینٹ، مالی سال 38 میں 9.18 سینٹ اور مالی سال 39 میں 9.03 سینٹ فی یونٹ ہوگی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

Comments are closed.