وزیراعلیٰ سندھ کا تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا حکم، گل پلازہ کے متاثرہ دکانداروں کی بحالی کا اعلان
- 40 گھنٹے گزرنے کے باوجود 10 فیصد آگ تاحال برقرار، ہلاکتیں 50 سے تجاوز ہونے کا خدشہ
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پیر کو کمشنر کراچی سید حسن نقوی کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے تاکہ گل پلازہ کے سانحے کی وجوہات کا تعین کیا جاسکے۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب 40 گھنٹے گزر جانے کے باوجود اب بھی 10 فیصد آگ لگی ہوئی ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ڈی آئی جی کراچی تحقیقاتی کمیٹی کی معاونت کریں گے جب کہ فارنزک لیبارٹری لاہور سے بھی مدد طلب کی گئی ہے۔ انہوں نے شاپنگ مال کی ازسرِنو تعمیر اور متاثرہ دکانداروں کی بحالی کا اعلان کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ہر مرنے والے کے لواحقین کو ایک کروڑ روپے بطور معاوضہ دیا جائے گا۔
کراچی کے مصروف ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں تھرڈ ڈگری کی آگ نے تباہی مچا دی، جس میں بہادر فائر فائٹر سمیت کم از کم 21 افراد جاں بحق ہو گئے۔
کراچی کی مصروف شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگنے والی شدید تھرڈ ڈگری آگ نے کم از کم 14 افراد کی جان لے لی، جن میں ایک فائر فائٹر بھی شامل ہے جبکہ ریسکیو ٹیمیں تاحال آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ گل پلازہ کی آگ اب بھی 10 فیصد باقی ہے، عمارت میں اندر جانے کے راستے نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ 2024 کی فائر سیفٹی آڈٹ رپورٹ پر فوری عملدرآمد کیا جائے۔ اس رپورٹ میں 145 عمارتوں کا جائزہ لیا گیا تھا۔ تاجر برادری اپنا کردار ادا کرے گی اور حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سندھ حکومت آگ کی فرانزک رپورٹ کرائے گی ، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آگ کیسے لگی۔
تحقیقات کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ انکوائری کسی کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ اپنی غلطیوں کی نشاندہی اور اصلاح کے لیے ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر تخریب کاری کے شواہد ملے تو یقیناً کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ غلطیاں کسی سے بھی ہوسکتی ہیں اور ہم ان سے سیکھنے کی کوشش کریں گے، تحقیقات وجوہات سامنے لے آئیں گی، اس وقت کچھ کہنا قبل از وقت ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ذمہ داروں کو سزا دی جائے گی مگر کسی کو قربانی کا بکرا نہیں بنایا جائے گا۔ ان کے مطابق کچھ ایسی خامیاں بھی ہیں جنہیں فوری طور پر درست کیا جا سکتا ہے۔
وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ ہر متوفی کے لواحقین کو صوبائی حکومت کی جانب سے ایک کروڑ روپے بطور معاوضہ دیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی یقین دلایا کہ متاثرہ دکانداروں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور انہیں اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے تعاون کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا ہم نے ماضی میں بھی متاثرین کی مدد کی ہے اور دوبارہ کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ گل پلازہ کے متاثرین کی مدد کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ منصوبے کے مطابق تاجروں کی ایک کمیٹی مالی نقصانات کا جائزہ لے گی، جبکہ حکومت اس کے مطابق مدد فراہم کرے گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ نقل مکانی کرنے والے دکانداروں کو عارضی متبادل جگہیں فراہم کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کمیٹی اس بارے میں بھی مشورہ دے گی کہ ہم متاثرین کو ان کے کاروبار دوبارہ شروع کرنے کے لیے کس طرح فوری طور پر دکانیں فراہم کر سکتے ہیں۔
کمیٹی معاوضے کی رقم اور متاثرین کی بحالی کے حوالے سے سفارشات پیش کرے گی۔
واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ افسوسناک حادثہ پرسوں رات پیش آیا، جہاں رات تقریباً 10:15 بجے آگ بھڑک اٹھی۔ آگ لگنے کی حتمی وجوہات کا تعین تاحال نہیں ہو سکا، تاہم ابتدائی اندازے کے مطابق شارٹ سرکٹ کا امکان ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آگ بجھانے کے عمل میں 24 فائر ٹینڈرز، 10 واٹر باؤزرز اور 4 اسنارکلز نے حصہ لیا جبکہ کے ایم سی کے 100 اور ریسکیو 1122 کے بھی 100 فائر فائٹرز آپریشن میں شریک تھے۔
قبل ازیں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق گل پلازہ میں 1,200 دکانیں ہیں، جس کا مطلب ہے کہ 1,200 متاثرین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام متاثرین جو اپنا کاروبار چلا رہے تھے، ایک ہی رات میں بے روزگار ہو گئے اور وہ ان سب کی بحالی کے لیے اقدامات کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تمام متاثرین کی بحالی کے حوالے سے فیصلہ کرنا ہوگا۔ ہم گل پلازہ کے تمام متاثرین کی بحالی کریں گے۔
اجلاس میں صوبائی وزراء شرجیل انعام میمن، سید ناصر حسین شاہ، سعید غنی، مشیر برائے بحالی گیانچند اسرانی، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، ڈی سی ساؤتھ جاوید کھوسو، تاجر کمیٹی کے جاوید بلوانی، ادریس میمن، محمد رضا، جنید مکدا، طارق یوسف اور تنویر پاستا شریک ہوئے۔
کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے وزیراعلیٰ سندھ کو گل پلازہ سانحے پر بریفنگ دی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اب تک گل پلازہ سے 14 لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ آگ بجھا دی گئی ہے اور کولنگ کا عمل جاری ہے۔
وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا گیا کہ ہلاکتوں کی تعداد 50 سے تجاوز کرسکتی ہے، جس پر انہوں نے فوری طور پر ملبہ ہٹانے کا کام شروع کرنے کی ہدایت جاری کی۔
تمام تاجر نمائندوں نے وزیراعلیٰ سے اس نکتے پر اتفاق کیا کہ متاثرہ دکانداروں کی بحالی کی جائے۔ تاجروں نے مشورہ دیا کہ دکانداروں کو فوری طور پر بحال کیا جانا چاہیے، تاکہ ان کا ذریعہ معاش دوبارہ شروع ہو سکے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے جواب دیا کہ حکومت گل پلازہ کی عمارت دوبارہ بنائے گی۔
وزیراعلیٰ مراد نے کہا کہ جن عمارتوں میں ایمرجنسی ایگزٹ یا فائر الارم نہیں ہیں وہ یقینی بنائیں کہ وہ نصب ہیں۔ انہوں نے وزراء کو گل پلازہ کے شہداء کے گھر جا کر تعزیت کرنے کی بھی ہدایت کی۔





















Comments