اقوامِ متحدہ کے سربراہ گوٹیرس کا انتباہ: ’طاقتور قوتیں‘ عالمی تعلقات کو نقصان پہنچا رہی ہیں
- یواین جنرل سیکریٹری نے برطانیہ کو اقوامِ متحدہ کے قیام میں اس کے فیصلہ کن کردار اور اس کی مستقل حمایت پر خراجِ تحسین پیش کیا
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل اینٹونیو گوٹیرس نے ہفتے کے روز لندن میں اقوامِ متحدہ کی پہلی جنرل اسمبلی کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر اپنی تقریر میں خبردار کیا ہے کہ دنیا میں متعدد ” طاقتور قوتیں عالمی تعاون کو کمزور کرنے کے لیے صف بندی کر رہی ہیں“۔
گوٹیرس، جن کا سیکرٹری جنرل کے طور پر عہدہ رواں سال 31 دسمبرکو ختم ہو رہا ہے، نے یہ انتباہ لندن کے میتھوڈسٹ سینٹرل ہال میں دیا، جہاں 10 جنوری 1946 کو 51 ممالک کے نمائندوں نے جنرل اسمبلی کے پہلے اجلاس کے لیے ملاقات کی تھی۔
ابتدائی اجلاس لندن میں منعقد ہوا کیونکہ اقوامِ متحدہ کا صدر دفتر نیویارک میں اس وقت تک تعمیر نہیں ہوا تھا۔
گوٹیرس نے برطانیہ کو اقوامِ متحدہ کے قیام میں اس کے فیصلہ کن کردار اور مستقل حمایت پر خراجِ تحسین بھی پیش کیا۔
تاہم، انہوں نے کہا کہ 2025 ” بین الاقوامی تعاون اور اقوامِ متحدہ کے اقدار کے لیے انتہائی چیلنجنگ سال رہا۔“
انہوں نے کہا کہ ”ہم دیکھ رہے ہیں کہ طاقتور قوتیں عالمی تعاون کو کمزور کرنے کے لیے صف بند ہو رہی ہیں“، اور مزید کہا کہ ” ان ہنگامہ خیز ماحول کے باوجود ہم آگے بڑھتے رہیں گے۔“
گوٹیرس نے سمندری حیاتیاتی تنوع سے متعلق ایک نئے معاہدے کو جاری پیش رفت کی مثال قرار دیا ہے۔
یہ معاہدہ قومی حدود سے باہر واقع سمندروں کے دو تہائی حصے میں سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور اس کے پائیدار استعمال کے لیے پہلا قانونی فریم ورک قائم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ” بین الاقوامی تعاون کی یہ خاموش کامیابیاں — روکی گئی جنگیں، قحط سے بچاؤ اور طے پانے والے اہم معاہدے — ہمیشہ سرخیوں میں جگہ نہیں پاتیں۔“























Comments
Comments are closed.