BR100 Decreased By (-1.39%)
BR30 Decreased By (-1.72%)
KSE100 Decreased By (-1.3%)
KSE30 Decreased By (-1.25%)
BAFL 56.74 Decreased By ▼ -0.95 (-1.65%)
BIPL 27.04 Decreased By ▼ -0.38 (-1.39%)
BOP 33.68 Decreased By ▼ -0.51 (-1.49%)
CNERGY 9.81 Increased By ▲ 0.19 (1.98%)
DFML 18.52 Decreased By ▼ -0.11 (-0.59%)
DGKC 207.87 Decreased By ▼ -5.16 (-2.42%)
FABL 98.90 Decreased By ▼ -1.89 (-1.88%)
FCCL 53.52 Decreased By ▼ -0.63 (-1.16%)
FFL 16.68 Decreased By ▼ -0.16 (-0.95%)
GGL 23.57 Decreased By ▼ -0.40 (-1.67%)
HBL 304.39 Decreased By ▼ -4.87 (-1.57%)
HUBC 218.11 Decreased By ▼ -3.42 (-1.54%)
HUMNL 10.66 Decreased By ▼ -0.23 (-2.11%)
KEL 7.35 Decreased By ▼ -0.24 (-3.16%)
LOTCHEM 29.11 Decreased By ▼ -1.32 (-4.34%)
MLCF 95.50 Decreased By ▼ -2.66 (-2.71%)
OGDC 317.94 Decreased By ▼ -5.42 (-1.68%)
PAEL 41.83 Decreased By ▼ -0.42 (-0.99%)
PIBTL 16.50 Decreased By ▼ -0.32 (-1.9%)
PIOC 280.01 Decreased By ▼ -5.95 (-2.08%)
PPL 219.74 Decreased By ▼ -4.99 (-2.22%)
PRL 44.59 Increased By ▲ 2.94 (7.06%)
SNGP 107.49 Decreased By ▼ -2.70 (-2.45%)
SSGC 28.93 Decreased By ▼ -0.38 (-1.3%)
TELE 8.76 Decreased By ▼ -0.23 (-2.56%)
TPLP 12.10 Decreased By ▼ -0.67 (-5.25%)
TRG 60.03 Decreased By ▼ -0.42 (-0.69%)
UNITY 10.11 Decreased By ▼ -0.26 (-2.51%)
WTL 1.23 Decreased By ▼ -0.04 (-3.15%)
کاروبار اور معیشت

پاکستان کے پاس ڈی سی او کی صدارت: ڈیجیٹل سفارت کاری میں نئی پیش رفت کی توقع

  • صدارت کی باضابطہ منتقلی کی تقریب 4 اور 5 فروری کو کویت میں منعقد ہوگی
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان 2026 میں ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن (ڈی سی او) کونسل کی صدارت سنبھالنے کے لیے تیار ہے جو مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے تیزی سے ابھار کے دوران پاکستان کو ڈیجیٹل تبدیلی کو آگے بڑھانے کی عالمی کوششوں کے مرکز میں لے آئے گا۔

کویت سے پاکستان کو صدارت کی باضابطہ منتقلی کی تقریب ڈی سی او کی پانچویں جنرل اسمبلی کے دوران ہوگی جو 4 اور 5 فروری کو کویت میں منعقد ہونے جا رہی ہے۔

ڈی سی او کی ڈائریکٹر جنرل ہاجر الحداوی نے بزنس ریکارڈر کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ڈی سی او جنرل اسمبلی اس تنظیم کا سب سے اہم سالانہ اجتماع ہے جو عالمی ڈیجیٹل معیشت کے مستقبل پر غور کرنے کے لیے 60 سے زائد ممالک کے وزراء، پالیسی سازوں، سی ای اوز ، جدت پسندوں اور بین الاقوامی تنظیموں کو ایک جگہ جمع کرتا ہے۔

ڈی سی او ایک عالمی ادارہ ہے جسے سعودی عرب نے 2020 میں لانچ کیا تھا جس کا مقصد ہمہ گیر ڈیجیٹل ترقی کو فروغ دینا، ممالک کو ڈیجیٹل مواقع سے جوڑنا اور بین الاقوامی تعاون اور متعلقہ فریقین کی شمولیت کے ذریعے مشترکہ ڈیجیٹل خوشحالی کو بڑھاوا دینا ہے۔

یہ پاکستان کیلئے اہم موقع ہے کہ وہ اپنی قومی ترجیحات کو آگے بڑھاتے ہوئے عالمی ڈیجیٹل تعاون کے ایجنڈے میں مزید براہِ راست حصہ ڈال سکے۔

پاکستان ان پہلے پانچ ممالک میں شامل تھا جنہوں نے نومبر 2020 میں سعودی عرب، بحرین، اردن اور کویت کے ساتھ مل کر ڈی سی او کا آغاز کیا تھا۔ پاکستان وہ پہلا ملک بھی تھا جس نے 2025 میں ڈی سی او کے ’ڈیجیٹل فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ (ڈی ایف ڈی آئی) فورم کی میزبانی کی جس نے عالمی رہنماؤں کو اپنی طرف متوجہ کیا اور سرمایہ کاری کے وعدے حاصل کیے۔

کویت کی صدارت میں منعقد ہونے والی آئندہ تقریب کی توجہ تیز رفتار تکنیکی تبدیلیوں کے دور میں ڈیجیٹل تعاون کو آگے بڑھانے پر مرکوز ہوگی۔

ہاجر الحدّاوئی نے کہا کہ یہ پاکستان کے لیے ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنی قومی ترجیحات کو آگے بڑھاتے ہوئے عالمی ڈیجیٹل تعاون کے ایجنڈے میں مزید براہِ راست حصہ ڈال سکے۔

حالیہ برسوں میں پاکستان نے اپنی ڈیجیٹل ترقی کو فروغ دینے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ 2018 میں اس وقت کی حکومت نے ڈیجیٹل پاکستان پالیسی کا آغاز کیا تھا جس کا مقصد آئی ٹی شعبے کو مراعات دینا، حکمرانی کے نظام کو بہتر بنانا اور کاروباری جذبے (انٹرپرینیورشپ) کی آبیاری کرنا تھا۔

گزشتہ سال حکومت نے ’نیشنل آرٹیفیشل انٹیلی جنس پالیسی 2025 کی منظوری دی جس کا مقصد ملک کو عالمی تکنیکی ترقی کے ہم آہنگ کرنا، اے آئی پر مبنی ماحولیاتی نظام کو فروغ دینا اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔

تاہم ان اقدامات کے باوجود ملک کو ڈیجیٹل مستقبل کی طرف لے جانے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

ہاجر الحدّاوئی کا کہنا ہے کہ (ڈی سی او کی) صدارت سنبھالنے سے پاکستان کو یہ موقع ملے گا کہ وہ ڈیجیٹل مہارتوں، جدت طرازی اور ہمہ گیر ترقی جیسے موضوعات پر اپنی آواز بلند کرسکے اور ان بین الاقوامی شراکت داریوں کو مضبوط بنا سکے جو مقامی ٹیکنالوجی کے ماحولیاتی نظام کے لیے معاون ثابت ہوں۔

انہوں نے کہا کہ قیادت کا یہ کردار تعاون کے نئے مواقع پیدا کرنے، ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور مسلسل تعاون و مکالمے کے ذریعے پاکستان کے پالیسی سازوں اور عالمی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان گہرے روابط استوار کرنے میں مدد دے سکتا ہے جو ملک کے اندرونی تبدیلی کے اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہوں گے۔

پاکستان کی صدارت کا دورانیہ ڈی سی او کے 2025-2028 چار سالہ ایجنڈے کے نفاذ کے ساتھ جڑا ہوا ہے جس کا مقصد رکن ممالک کی جانب سے طے کردہ مشترکہ ڈیجیٹل ترجیحات پر پیش رفت کو تیز کرنا ہے۔

ڈی سی او کی عہدیدار نے بتایا کہ اس ایجنڈے کی توجہ ریگولیٹری ہم آہنگی کو مضبوط بنانے، ڈیجیٹل مہارتوں اور ٹیلنٹ کی نقل مکانی (موبلٹی) کو فروغ دینے، سرکاری و نجی شعبے کے درمیان تعاون کو وسعت دینے اور ذمہ دارانہ ٹیکنالوجی گورننس کے فریم ورک کو بہتر بنانے پر ہے۔

اس کا مقصد انٹراوپریبلٹی (مختلف نظاموں کے باہمی ربط) اور سرحد پار ڈیٹا کی منتقلی کو فروغ دینا، ڈیجیٹل ایس ایم ایز اور اسٹارٹ اپس کی مدد کرنا، اور ایسی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جو قومی ترقیاتی ترجیحات کے مطابق ہمہ گیر ترقی کا باعث بنیں۔

ہاجر الحداوی نے مزید کہا کہ مجموعی طور پر، ان اسٹریٹجک سمتوں کا مقصد ممالک کو ایسے عملی اوزار اور فریم ورک فراہم کرنا ہے جو مشترکہ شواہد اور باہمی سیکھنے کے عمل پر مبنی ہوں، تاکہ وہاں کے شہریوں، کاروبار اور حکومتوں کو تیزی سے بدلتے ہوئے ڈیجیٹل نظام کے اندر پھلنے پھولنے میں مدد مل سکے۔

دریں اثنا، دوسرا انٹرنیشنل ڈیجیٹل کوآپریشن فورم جو جنرل اسمبلی کے ساتھ ہی منعقد ہوگا، وزراء، سی ای اوز، جدت پسندوں، سول سوسائٹی اور تکنیکی ماہرین کے درمیان مکالمے کے لیے ایک اعلیٰ سطح پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔

آئی ڈی سی ایف کا موضوع مصنوعی ذہانت کے دور میں ہمہ گیر خوشحالی ہے جو ڈی سی او کے رکن ممالک کے اس مشترکہ یقین کی عکاسی کرتا ہے کہ ڈیجیٹل تبدیلی اور اے آئی کے ثمرات محض چند ممالک، کمپنیوں یا برادریوں تک محدود نہیں رہنے چاہئیں بلکہ ہر ایک کے لیے دستیاب ہونے چاہئیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تنظیم کے اندر قائدانہ کردار سنبھالنے کے بعد، پاکستان سے یہ توقع کی جارہی ہے کہ وہ مشترکہ شواہد، باہمی سیکھنے کے عمل اور ڈی سی او کے فراہم کردہ اوزاروں کو اپنے ڈیجیٹل اہداف کے حصول کے لیے بروئے کار لائے گا اور ساتھ ہی ایک زیادہ جامع عالمی ڈیجیٹل ایجنڈے کی تشکیل میں اپنا حصہ ڈالے گا۔

Comments

Comments are closed.