سلامتی کونسل : پاکستان کا ایران کے اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت کے خلاف انتباہ
- ہمیں ایران میں صورتحال جلد معمول پر آنے کی امید ہے، عاصم افتخار
پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں واضح کیا ہے کہ وہ ایران میں صورتحال کی جلد بحالی اور معمول پر آنے کا خواہاں ہے۔ پاکستانی مندوب عاصم افتخار احمد نے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اقوام متحدہ کا چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کسی بھی ریاست کے اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت کی سختی سے ممانعت کرتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ طاقت کا استعمال یا دھمکی کسی بھی ملک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے خلاف ہے جو عالمی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
پاکستانی سفیر نے ایران کو ایک ”برادر ملک“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان گہرے تاریخی، ثقافتی اور مذہبی تعلقات ہیں۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ایرانی قیادت اور عوام اپنی بصیرت اور استقامت سے موجودہ چیلنجز پر قابو پانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک پرامن اور مستحکم ایران پاکستان اور خطے کے وسیع تر مفاد میں ہے اور تمام تنازعات کا حل یکطرفہ کارروائیوں کے بجائے پرامن مذاکرات اور باہمی احترام میں پنہاں ہے۔
اجلاس کے دوران امریکہ نے ایرانی مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے وہاں کی حکومت پر کڑی تنقید کی، جبکہ روس اور چین نے امریکی موقف کو مسترد کر دیا۔
روسی مندوب نے اسے ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے کی جانے والی مداخلت قرار دیا اور چینی مندوب نے خبردار کیا کہ فوجی مہم جوئی خطے کو کسی بڑے حادثے سے دوچار کر سکتی ہے۔
دوسری جانب ایرانی نمائندے نے امریکہ پر بدامنی پھیلانے اور حقائق مسخ کرنے کا الزام عائد کیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل سے کام لیں اور مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری کا راستہ اختیار کریں ، تاکہ خطہ مزید کشیدگی سے بچ سکے۔
























Comments
Comments are closed.