ایران پر امریکی حملے کے خدشات میں کمی، خام تیل کی قیمتیں مستحکم
- برینٹ خام تیل کی قیمت 63.73 ڈالر فی بیرل رہی
عالمی مارکیٹ میں جمعہ کو تیل کی قیمتیں مستحکم رہیں، کیونکہ امریکی حملے کے خدشات میں کمی کے باعث مارکیٹ پر دباؤ کم ہوا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 63.73 ڈالر فی بیرل رہی، جس میں 3 سینٹ کمی ہوئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیئٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 59.22 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا، جس میں 4 سینٹ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اس ہفتے کے دوران برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتیں کئی ماہ کی بلندیوں تک پہنچ گئی تھیں، جب ایران میں مظاہروں کا آغاز ہوا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ممکنہ فوجی کارروائی کا اشارہ دیا۔ تاہم جمعرات کو امریکی صدر نے کہا کہ تہران کی مظاہرین پر کریک ڈاؤن میں کمی آ رہی ہے، جس سے فوجی کارروائی کے خدشات کم ہوئے اور تیل کی سپلائی میں ممکنہ خلل کے خوف کو ختم کیا گیا۔
امریکی توانائی معلومات ایڈمنسٹریشن کی رپورٹ میں بھی بتایا گیا کہ امریکہ میں خام تیل اور پٹرول کے ذخائر توقع سے زیادہ بڑھ گئے، جس سے مارکیٹ پر قیمت بڑھانے والا دباؤ ختم ہوا۔ آئی جی کے تجزیہ کار ٹونی سائی کام نے کہا کہ اس اقدام نے ایران پریمیم کو کم کر دیا جو قیمتیں بارہ ہفتے کی بلندی تک لے گیا تھا۔
ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ وینزویلا نے اپنی پیداوار میں کمی کو واپس کرتے ہوئے دوبارہ برآمدات شروع کر دی ہیں، جس سے عالمی رسد میں اضافہ ہوا۔
تیل کی بڑی کمپنی شیل نے جمعرات کو 2026 کے توانائی سکیورٹی منظرنامے جاری کیے، جن میں توانائی کی طلب اور تیل کی طلب میں ممکنہ اضافہ دکھایا گیا۔ کمپنی کے مطابق 2050 تک بنیادی توانائی کی طلب گزشتہ سال کے مقابلے میں 25 فیصد زیادہ ہو سکتی ہے۔
اوپیک نے بدھ کو کہا کہ 2026 میں تیل کی رسد اور طلب متوازن رہیں گی، اور 2027 میں طلب میں اضافہ اس سال کی شرح کے مطابق ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی سیاسی حالات اور سپلائی چین کی صورتحال فی الوقت قیمتوں کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

























Comments
Comments are closed.