پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ دفاعی معاہدے پر نظریں جمالیں
- پاکستان بنگلہ دیش کو جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیارے فروخت کرے گا
پاکستان اور بنگلہ دیش کی فضائی افواج کے سربراہان نے اسلام آباد میں ملاقات کی اور ممکنہ معاہدے پر تبادلہ خیال کیا جس کے تحت پاکستان بنگلہ دیش کو جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیارے فروخت کرے گا۔ پاک فوج کے میڈیا ونگ کے مطابق یہ بات چیت ایسے وقت میں ہوئی جب اسلام آباد اپنی ہتھیاروں کی برآمدات کو بڑھانے اور بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
پاکستان کے چیف آف ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر صیدھو اور بنگلہ دیش کے چیف ایئر اسٹاف حسن محمود خان نے جے ایف-17 تھنڈر کی خریداری پر تفصیلی بات چیت کی، جو چین کے ساتھ مشترکہ طور پر تیار کیا گیا ایک کثیر المقاصد لڑاکا طیارہ ہے۔ پاکستان نے بنگلہ دیش کو سوپر مشاق تربیتی طیاروں کی تیز تر فراہمی کے ساتھ مکمل تربیتی اور طویل مدتی معاونت کے وعدے بھی کیے۔
یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کی علامت ہے، کیونکہ گزشتہ برس اگست میں بنگلہ دیش میں بڑے احتجاج کے بعد اس وقت کی وزیراعظم شیخ حسینہ بھارت فرار ہو گئی تھیں، جس سے ڈھاکہ اور نئی دہلی کے تعلقات متاثر ہوئے۔ پاک فوج نے کہا کہ یہ دورہ تاریخی تعلقات کو مضبوط کرنے اور دفاعی تعاون اور طویل مدتی اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دینے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
شیخ حسینہ کی برطرفی کے بعد اسلام آباد اور ڈھاکہ نے 1971 کی جنگ کے بعد پہلی بار براہ راست تجارتی روابط بحال کیے ہیں، جبکہ فوجی حکام نے متعدد ملاقاتیں بھی کی ہیں۔ عبوری حکومت کے تحت، بنگلہ دیش میں 12 فروری کو عام انتخابات ہوں گے، جو پہلے کالعدم قرار بنگلہ دیشی اسلام پسند جماعت کو حکومت میں اہم کردار دے سکتے ہیں، جس کے پاکستان سے تعلقات ہیں۔
جے ایف-17 تھنڈر پاکستانی فوج کے ہتھیاروں کے ترقیاتی پروگرام کا اہم ستون بن چکے ہیں اور یہ اذر بائیجان کے ساتھ ایک معاہدے اور لیبیا کی نیشنل آرمی کے ساتھ 4 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کے معاہدے میں شامل ہیں۔ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ہتھیاروں کی صنعت کی کامیابی ملک کے اقتصادی منظرنامے کو بدل سکتی ہے اور اتنے زیادہ آرڈرز موصول ہو رہے ہیں کہ چھ ماہ میں پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی ضرورت نہ پڑے گی۔






















Comments