BR100 Decreased By (-0.73%)
BR30 Decreased By (-0.77%)
KSE100 Decreased By (-0.49%)
KSE30 Decreased By (-0.47%)
BAFL 58.44 Decreased By ▼ -0.58 (-0.98%)
BIPL 25.20 Decreased By ▼ -0.09 (-0.36%)
BOP 33.99 Increased By ▲ 0.03 (0.09%)
CNERGY 8.11 Decreased By ▼ -0.20 (-2.41%)
DFML 20.84 Decreased By ▼ -0.18 (-0.86%)
DGKC 192.97 Decreased By ▼ -2.69 (-1.37%)
FABL 89.79 Decreased By ▼ -0.42 (-0.47%)
FCCL 52.83 Decreased By ▼ -0.17 (-0.32%)
FFL 17.95 Decreased By ▼ -0.20 (-1.1%)
GGL 18.97 Decreased By ▼ -0.17 (-0.89%)
HBL 285.50 Decreased By ▼ -2.31 (-0.8%)
HUBC 214.38 Decreased By ▼ -1.57 (-0.73%)
HUMNL 10.88 Decreased By ▼ -0.12 (-1.09%)
KEL 8.02 Decreased By ▼ -0.12 (-1.47%)
LOTCHEM 27.89 Decreased By ▼ -0.61 (-2.14%)
MLCF 86.51 Decreased By ▼ -1.37 (-1.56%)
OGDC 319.96 Decreased By ▼ -0.62 (-0.19%)
PAEL 39.42 Decreased By ▼ -0.65 (-1.62%)
PIBTL 16.67 Decreased By ▼ -0.09 (-0.54%)
PIOC 266.06 Decreased By ▼ -1.72 (-0.64%)
PPL 228.18 Decreased By ▼ -2.19 (-0.95%)
PRL 34.68 Decreased By ▼ -0.36 (-1.03%)
SNGP 99.18 Decreased By ▼ -0.18 (-0.18%)
SSGC 26.60 Decreased By ▼ -0.37 (-1.37%)
TELE 8.28 Decreased By ▼ -0.09 (-1.08%)
TPLP 8.22 Increased By ▲ 0.04 (0.49%)
TRG 69.71 Decreased By ▼ -0.92 (-1.3%)
UNITY 11.67 Decreased By ▼ -0.10 (-0.85%)
WTL 1.28 Decreased By ▼ -0.01 (-0.78%)
کاروبار اور معیشت

فارما سیکٹر میں بڑا بریک تھرو: اصلاحات کی بدولت 2025 ادویہ سازی کی صنعت کے لیے بہترین سال ثابت

  • کئی مقامی صنعت کاروں نے ویکسین اور بایوٹیکنالوجی پر مبنی مصنوعات جیسی نئی شعبہ جاتی سرگرمیوں میں توسیع کی
شائع January 1, 2026 اپ ڈیٹ January 1, 2026 11:28pm

پاکستان کی دوا سازی کی صنعت ڈی ریگولیشن اور اصلاحات کے نتیجے میں بلندیوں کو چھو رہی ہے، جس نے بندش کے خطرے سے دوچار ایک بیمار صنعت کو نئی زندگی بخشی ہے۔

ان اصلاحات نے نہ صرف ادویات کی قلت کے بحران پر قابو پانے اور جعلی و بلیک مارکیٹ کے خاتمے میں مدد دی ہے بلکہ مقامی نظامِ صحت کو بھی بہتر بنایا ہے۔ صنعت نے جدت کے ذریعے مینوفیکچرنگ کو آگے بڑھایا اور سال 2025 میں برآمدات میں تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔

پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے سینئر وائس چیئرمین کامران ناصر نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ 2025 میں صنعت میں ایک نمایاں مثبت تبدیلی آئی، جس کی بنیادی وجہ فروری 2024 میں غیر ضروری ادویات کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنا تھا، جس میں ایس آئی ایف سی نے کلیدی کردار ادا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پیش رفت نے پورے شعبے میں تجارتی عملداری کو بحال کیا اور مینوفیکچرنگ، انفرااسٹرکچر اور برآمدات پر مبنی ترقی میں نئی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کی۔

ڈی ریگولیشن کے براہِ راست نتیجے میں مالی سال 2025 کے دوران فارما برآمدات میں تقریباً 34 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مزید برآں اس سے ان ادویات کی دائمی قلت کو دور کرنے میں مدد ملی جن کی تیاری طویل عرصے تک قیمتوں پر کنٹرول کی وجہ سے ناقابلِ عمل ہو چکی تھی۔ کامران ناصر جو او بی ایس گروپ کے ایم ڈی اور اے جی پی لمیٹڈ کے سی ای او بھی ہیں نے بتایا کہ ان اصلاحات سے قبل منافع کے مارجن بہت کم ہو چکے تھے، پلانٹس بند ہو رہے تھے اور کئی ملٹی نیشنل کمپنیاں مارکیٹ سے نکلنے کا سوچ رہی تھیں۔ ڈی ریگولیشن نے اس رجحان کو الٹ دیا ہے اور ادویات کی دستیابی اور مریضوں کی رسائی کو یقینی بنایا ہے۔

اسٹیک ہولڈرز کا 2030 تک پاکستان کو 5 سے 10 ارب ڈالر کی فارما ایکسپورٹ انڈسٹری بنانے کا ہدف

مالی وسائل کی دستیابی نے فارما کمپنیوں کو جدید علاج کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی اجازت دی ہے۔

کامران ناصر کے مطابق 2025 میں کئی مقامی مینوفیکچررز نے ویکسین، بائیو ٹیکنالوجی مصنوعات اور دیگر جدید حل کی تیاری شروع کی ہے۔ یہ سرمایہ کاری پاکستان کو عالمی نقشے پر ایک مسابقتی اور اعلیٰ درجے کے کھلاڑی کے طور پر ابھارنے کے لیے ضروری ہے۔ اس پالیسی تبدیلی نے صنعت کو اپنے طویل مدتی وژن پر نظر ثانی کا موقع دیا ہے، اور اب ہدف 2030 تک برآمدات کو 10 ارب ڈالر تک لے جانا ہے۔

2025 کا ایک اور بڑا سنگ میل ڈرپ ( ڈ آر اے پی ) کی ادارہ جاتی اصلاحات ہیں۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبید اللہ کی قیادت میں اتھارٹی نے شفافیت اور کارکردگی پر توجہ دی، جس پر وزیراعظم پاکستان نے ڈرپ کو ”چیمپیئن ریگولیٹر“ کا ایوارڈ بھی دیا۔ مستقبل میں اس ترقی کو برقرار رکھنے کے لیے ریگولیٹری استحکام، عمل کی ڈیجیٹلائزیشن اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ( آر اینڈ ڈی) کے لیے حکومتی تعاون ناگزیر ہوگا۔

فارما کمپنیوں نے ڈبلیو ایچ او اور پی آئی سی/ ایس کی پری کوالیفیکیشن جیت لی

پی پی ایم اے کے سابق چیئرمین توقیر الحق نے بتایا کہ کم از کم 8 پاکستانی فارما کمپنیوں نے عالمی معیار کی ادویات تیار کرنے پر بین الاقوامی اعزازات حاصل کیے ہیں، جن میں عالمی ادارہ صحت( ڈبلیو ایچ او) کی پری کوالیفیکیشن اور برطانیہ کی ایم ایچ آر اے کی منظوری شامل ہے۔ ان منظوریوں نے امریکہ، یورپ اور خلیجی ممالک جیسی بڑی مارکیٹوں کے دروازے کھول دیے ہیں، جو 5 سالوں میں 30 ارب ڈالر کے برآمدی ہدف کے حصول کی جانب ایک قدم ہے۔ توقع ہے کہ مزید 10 سے 15 کمپنیاں اگلے دو سالوں میں یہ سرٹیفیکیشنز حاصل کر لیں گی۔

تقریباً 80 فیصد ’غائب ہونے والی ادویات‘ واپس آ گئیں

پی پی ایم اے کے مطابق گزشتہ 22 مہینوں میں پاکستان کی ریٹیل مارکیٹ میں ادویات کی قلت کے بحران پر قابو پا لیا گیا ہے۔ تقریباً دو سال قبل پیداواری لاگت بڑھنے کی وجہ سے 200 ادویات کی تیاری بند ہو گئی تھی، جن میں ٹی بی، کینسر، ذیابیطس اور نفسیاتی امراض کی جان بچانے والی ادویات شامل تھیں۔ توقیر الحق کے مطابق ان 200 میں سے 160 ادویات اب دوبارہ مقامی مارکیٹ میں سستی قیمتوں پر دستیاب ہیں۔

مالی سال 2025 میں برآمدات 2 دہائیوں کی بلند ترین سطح (34 فیصد) پر پہنچ گئیں

30 جون 2025 کو ختم ہونے والے مالی سال میں پاکستان کی فارما برآمدات کی شرحِ نمو 34 فیصد رہی، جو گزشتہ 20 برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔ مالی سال 2025 میں بیرون ملک ادویات کی فروخت 457 ملین ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ مالی سال 2024 میں یہ 341 ملین ڈالر تھی۔ اس کے علاوہ تھراپیوٹک اشیا (ادویات، جراحی کے آلات، فوڈ سپلیمنٹس وغیرہ) کی مجموعی برآمدات 909 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئیں، جو ایک ارب ڈالر کے ہدف کے بالکل قریب ہیں۔

صنعت میں اے آئی اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال

پی پی ایم اے کے سابق چیئرمین ہارون قاسم کے مطابق پاکستان کا فارما سیکٹر ادویات کی تیاری اور ان کے ردِعمل کی جانچ کے لیے مصنوعی ذہانت ( اے آئی ) کا تیزی سے استعمال کر رہا ہے۔ ٹیلی میڈیسن پلیٹ فارمز سے لے کر بڑے پیمانے پر ٹیکنالوجی کے انضمام تک، یہ شعبہ مستقبل کے تقاضوں کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے۔

پاک افغان سرحد کی بندش سے برآمدات متاثر

پی پی ایم اے نے سیاسی بحران کے باعث پاک افغان سرحد کی طویل بندش پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ افغانستان پاکستانی ادویات کی ایک بڑی مارکیٹ ہے اور اس تعطل سے برآمدات میں تاخیر اور ریونیو کا نقصان ہو رہا ہے۔ ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سرحد پار تجارت کو یقینی بنایا جائے تاکہ نہ صرف کاروبار محفوظ رہے بلکہ افغانستان میں ضروری ادویات کی فراہمی بھی برقرار رہے۔

Comments

200 حروف