پاکستان کوٹنگ ایسوسی ایشن اور لاہور چیمبر کے درمیان معاہدہ
- کوٹنگ انڈسٹری کے فروغ، کاروباری تعاون اور برآمدات میں اضافے کے لیے باہمی اشتراک پر اتفاق ہو ا
لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایل سی سی آئی) کے صدر فہیم الرحمن سیگل نے کہا ہے کہ پاکستان میں غیر روایتی شعبوں میں برآمدات کی مضبوط صلاحیت موجود ہے، لیکن توجہ نہ دینے کی وجہ سے یہ شعبے اچھی کارکردگی نہیں دکھا پارہے۔
یہ بات انہوں نے پاکستان کوٹنگ ایسوسی ایشن کے وفد سے ایل سی سی آئی میں ملاقات کے دوران کہی۔ وفد کی قیادت چیئرمین افتخار بشیر چودھری نے کی، جبکہ دیگر اراکین میں معظم رشید، میان عبید، سلمان رفیق، چودھری عرفان اور دیگر شامل تھے۔
اس موقع پر لاہور چیمبر اور پاکستان کوٹنگ ایسوسی ایشن کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر بھی دستخط ہوئے۔
ایل سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ کوٹنگ انڈسٹری ایک اہم اور عملی شعبہ ہے جو نہ صرف مقامی صنعت کو سہارا دے سکتا ہے بلکہ برآمدات میں بھی اضافہ کر سکتا ہے۔ ایم او یو کے تحت دونوں ادارے سال بھر مشترکہ سرگرمیاں انجام دیں گے، جن میں بزنس ڈیولپمنٹ، پالیسی سپورٹ اور تجارتی فروغ شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمام شعبے موجودہ معاشی حالات میں چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔ کوٹنگ ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے کہا کہ چیمبرز ہمیشہ کاروباری برادری کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور لاہور چیمبر کی حالیہ ٹرانسپورٹ اور بندرگاہ سے متعلق مسائل حل کرنے میں کردار قابلِ تعریف ہے۔
وفد نے مطالبہ کیا کہ کوٹنگ انڈسٹری کو ایک الگ صنعتی شعبہ کے طور پر تسلیم کیا جائے ،تاکہ ٹیکس اور مراعات میں مناسب نمائندگی حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ کیلسیم کاربونیٹ، جو اہم خام مال ہے، مقامی طور پر دستیاب ہے اور اس سے ویلیو ایڈڈ مصنوعات بنا کر برآمدات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
ایل سی سی آئی کے صدر نے یقین دلایا کہ کوٹنگ انڈسٹری سے متعلق تمام تجاویز حکومت کو جامع پروپوزل کی شکل میں پیش کی جائیں گی۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں اداروں نے باہمی تعاون کے ذریعے کاروباری مسائل حل کرنے اور ملکی معیشت کو مضبوط کرنے کا عزم دہرایا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025
























Comments