وزیراعظم کی عالمی بینک کی رپورٹ کا اعلیٰ سطح پر جائزہ لینے کی ہدایت
- عالمی بینک کے وفد نے مالیاتی نظم و ضبط کو فروغ دینے کے لیے مختلف پالیسی سفارشات بھی پیش کیں
وزیراعظم شہباز شریف نے جمعہ کو عالمی بینک کی رپورٹ ”پاکستان میں مالیاتی وفاقیت کو مضبوط بنانے“ کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح پر ایک کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کر دی۔ کمیٹی قابلِ عمل سفارشات پر غور سے قبل صوبوں اور دیگر متعلقہ فریقوں سے مشاورت کرے گی۔
یہ پیش رفت اس ملاقات کے بعد سامنے آئی جس میں پاکستان میں عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار کی قیادت میں وفد نے آج اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا۔
ملاقات کے دوران عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر نے وزیراعظم کو مذکورہ رپورٹ پیش کی اور اس کے مندرجات پر بریفنگ دی۔
رپورٹ کے اہم نکات پیش کرتے ہوئے عالمی بینک کے وفد نے وزیراعظم کو 18ویں آئینی ترمیم اور ساتویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے بعد پاکستان میں مالیاتی وفاقیت کے ارتقا، محصولات، سرکاری اخراجات، وفاق اور صوبوں کے درمیان مالیاتی تعلقات، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور عوامی وسائل کے استعمال سے متعلق اپنے تجزیے اور مشاہدات سے آگاہ کیا۔
وفد نے اپنی رپورٹ میں مالیاتی نظم و ضبط کے فروغ، وسائل کے مؤثر استعمال، خدمات کی فراہمی میں بہتری اور وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون کے لیے مختلف پالیسی سفارشات بھی پیش کیں۔
وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعظم نے عالمی بینک کے ساتھ پاکستان کی دیرینہ شراکت داری کو سراہا اور ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی میں ادارے کے کردار کی تعریف کی۔
وزیراعظم نے پاکستان کی ترقی کے سفر میں عالمی بینک کے مسلسل تعاون پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت معیشت کو مستحکم کرنے اور اسے پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے اپنے اصلاحاتی ایجنڈے پر ثابت قدمی سے عمل درآمد کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا آئینی وفاقی ڈھانچہ، صوبائی خودمختاری اور وفاق و صوبوں کے درمیان تعاون اور مشاورت ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی بینک کی جانب سے پیش کیا گیا تجزیہ اور بین الاقوامی تجربات کی روشنی میں تقابلی جائزہ قابلِ تحسین ہے، اور اس نوعیت کے مطالعات پالیسی سازی کے عمل میں مؤثر رہنمائی فراہم کرنے کے حوالے سے نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔
وزیراعظم نے رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح پر ایک کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی پاکستان کے آئینی اور وفاقی ڈھانچے کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبوں سمیت متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد عالمی بینک کی رپورٹ میں پیش کی گئی سفارشات کا جائزہ لے گی، تاکہ عوامی مفاد میں قابلِ عمل تجاویز پر غور کیا جا سکے۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء احد خان چیمہ اور احسن اقبال، وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر سید تقدیر شاہ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور اعلیٰ سرکاری حکام بھی شریک تھے۔



















Comments