پی پی رہنما نے پی آئی اے کی نجکاری کی مخالفت کردی
- قومی ایئرلائن کو اثاثوں اور منافع کے باوجود کم قیمت پر فروخت کیا جا رہا ہے ، چوہدری منظور کا الزام
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری منظور نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز(پی آئی اے) کی نجکاری کے حکومتی فیصلے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ قومی فضائی کمپنی کو اس کے بھاری اثاثوں اور منافع بخش صلاحیت کے باوجود کم قیمت پر فروخت کیا جا رہا ہے۔
جمعرات کو نیشنل پریس کلب میں پیپلز یونٹی آف پی آئی اے ایمپلائز کے زیرِ اہتمام پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری منظور نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پی آئی اے کو دو کمپنیوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے، جبکہ اس کے تقریباً 30 طیارے گراؤنڈ ہیں۔ ان کے مطابق صرف 13 فعال طیاروں کے ذریعے پی آئی اے نے 26 ارب روپے کا سرمایہ پیدا کیا ہے اور ادارہ پہلے ہی منافع میں جا چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یورپی روٹس دوبارہ کھل چکے ہیں، تاہم ان سے مکمل فائدہ اٹھانے کے لیے مزید طیاروں کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت اختیارات تلاش کرنے کے بجائے نجکاری کی طرف جا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ متعدد فریقین یورپی آپریشنز کے لیے طیارے فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کر چکے ہیں۔
چوہدری منظور نے کہا کہ دنیا بھر میں دیگر ایئرلائنز کے 80 فیصد طیارے لیز پر ہوتے ہیں تو حکومت لیز کو مسئلہ کیوں بنا رہی ہے۔ ان کے مطابق ایوی ایشن ڈویژن کے پاس فنڈز موجود ہیں اور ضرورت پڑنے پر کریڈٹ پر بھی طیارے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت صرف پی آئی اے کو فروخت کرنا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کو 100 ارب روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے، جبکہ لاہور، پشاور، کراچی اور ملتان میں اس کی آٹھ بڑی جائیدادیں موجود ہیں، جن کی مالیت تقریباً 50 ارب روپے ہے، جبکہ گاڑیوں اور ورکشاپس کی قیمت 10 ارب روپے بتائی جاتی ہے۔
ان کے مطابق پی آئی اے کے پاس 400 کے قریب گاڑیاں، فرنیچر اور دیگر اثاثے ہیں جن کی مالیت پانچ ارب روپے ہے، جبکہ ادارہ دنیا بھر میں 64 بین الاقوامی روٹس پر آپریٹ کرتا ہے۔ انہوں نے لندن کے ہیتھرو روٹ کے لیز پر دیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے حکام سے اس کی موجودہ حیثیت کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا۔
چوہدری منظور نے کہا کہ قطر ایئرویز جیسی بڑی ایئرلائنز کو بھی مشکلات کا سامنا رہتا ہے تو نئی ایئرلائن کے لیے چیلنجز مزید بڑھ جائیں گے۔ ان کے مطابق پی آئی اے کے 30 طیاروں کی مالیت تقریباً 100 ارب روپے ہے، جبکہ ادارے کی جائیدادیں دنیا کے 19 ممالک میں موجود ہیں۔
انہوں نے سابق حکومتی مشیر ذلفی بخاری کے روزویلٹ ہوٹل سے متعلق وعدوں کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ پی آئی اے پیرس میں 1052 کمروں پر مشتمل ایک ہوٹل کی بھی مالک ہے۔ پی آئی اے کے مجموعی اثاثوں کی مالیت دو کھرب روپے سے زائد ہے، مگر اس کی قیمت صرف 100 ارب روپے لگائی جا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا اور کہا کہ نجکاری کے نام پر کوئی اور کھیل کھیلا جا رہا ہے۔






















Comments