امریکا اور وینزویلا میں بڑھتی کشیدگی، خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
- برینٹ خام تیل کے فیوچرز 25 سینٹ یا 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ 61.37 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے
عالمی منڈی میں پیر کو تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں گزشتہ ہفتے ہونے والی تقریباً 4 فیصد کمی کا اثر ختم ہوگیا۔ قیمتوں میں اس اضافے کی بنیادی وجہ امریکا اور وینزویلا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث ممکنہ سپلائی تعطل کا خدشہ رہا، جس نے اضافی سپلائی سے متعلق خدشات اور روس یوکرین ممکنہ امن معاہدے کے اثرات کو وقتی طور پر پسِ پشت ڈال دیا۔
برینٹ خام تیل کے فیوچرز 25 سینٹ یا 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ 61.37 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ( ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 23 سینٹ یا 0.4 فیصد اضافے سے 57.67 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔
این ایل آئی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سینئر ماہرِ معیشت تسویوشی اوئنو کے مطابق روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات کبھی امید اور کبھی احتیاط کے درمیان جھول رہے ہیں، جبکہ امریکا اور وینزویلا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے تیل کی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات جنم لے رہے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں واضح سمت کے فقدان کے باعث اضافی سپلائی کے خدشات بدستور مضبوط ہیں اور اگر جغرافیائی سیاسی خطرات میں نمایاں اضافہ نہ ہوا تو ڈبلیو ٹی آئی خام تیل آئندہ سال کے آغاز میں 55 ڈالر سے نیچے بھی جا سکتا ہے۔
یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی نے اتوار کے روز برلن میں امریکی نمائندوں کے ساتھ پانچ گھنٹے طویل مذاکرات کے دوران نیٹو فوجی اتحاد میں شمولیت کی خواہش ترک کرنے کی پیشکش کی۔ مذاکرات پیر کو بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ بات چیت میں خاصی پیش رفت ہوئی ہے، تاہم مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
گزشتہ جمعہ کو یوکرین کی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے ماسکو کے شمال مشرق میں واقع روس کے ایک بڑے آئل ریفائنری پر حملہ کیا، جس کے بعد صنعتی ذرائع کے مطابق اس تنصیب نے پیداوار معطل کر دی۔
ادھر روس کی ریاستی تیل و گیس آمدن دسمبر میں ایک سال پہلے کے مقابلے میں تقریباً نصف رہ جانے کا امکان ہے، جو کم تیل قیمتوں اور مضبوط روبل کا نتیجہ ہے۔ ممکنہ امن معاہدے کی صورت میں روسی تیل کی سپلائی میں اضافہ ہو سکتا ہے، جو اس وقت مغربی پابندیوں کی زد میں ہے۔
دوسری جانب وینزویلا میں سیاسی صورتحال بھی عالمی منڈی پر اثرانداز ہو رہی ہے۔ اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو نے خفیہ طور پر ملک چھوڑ کر نوبیل امن انعام وصول کرنے کے بعد سیاسی تبدیلی کا وعدہ کیا، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ ہفتے ایک آئل ٹینکر کی ضبطی کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔ تازہ پابندیوں اور شپنگ کمپنیوں کے خلاف اقدامات کے باعث وینزویلا کی تیل برآمدات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
سپلائی کے محاذ پر امریکی توانائی کمپنیوں نے گزشتہ ہفتے تیل اور گیس رِگز کی تعداد میں مسلسل دوسری بار کمی کی، جس سے مستقبل کی پیداوار پر دباؤ کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

























Comments
Comments are closed.