مہنگائی بڑھنے کا خطرہ، شرح سود 11 فیصد پر برقرار رہنے کا امکان
رائٹرز پول کے مطابق اس بات کا قوی امکان ہے کہ پاکستان کا مرکزی بینک پیر کو شرح سود 11 فیصد کی سطح پر برقرار رکھے گا، کیونکہ تجزیہ کار اب شرح میں کمی کے امکانات کو 2026 کے آخر تک مؤخر کر رہے ہیں۔ آئی ایم ایف نے تنبیہ کی کہ افراطِ زر کے خطرات بدستور موجود ہیں اور مانیٹری پالیسی کو مناسب حد تک سخت رکھنا ناگزیر ہے۔
سروے میں شامل تمام 12 ماہرین نے توقع ظاہر کی ہے کہ موجودہ پالیسی اجلاس میں شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ آنے والے مہینوں میں افراطِ زر 6 سے 8 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے، تاہم مالی سال 2026 کے اختتام تک جب بنیادی اثرات ختم ہوں گے مہنگائی دوبارہ بڑھ سکتی ہے جبکہ سیلاب کے باعث سپلائی چین متاثر ہونے کے بعد خوراک و ٹرانسپورٹ کی قیمتوں میں عدم استحکام برقرار ہے۔
زیادہ تر ماہرین کا اب خیال ہے کہ اسٹیٹ بینک مالی سال 2026 کے آخری مہینوں تک جو جون 2026 میں ختم ہوتا ہے پالیسی میں نرمی شروع نہیں کرے گا جبکہ بعض نے پہلی کمی کے لیے مالی سال 2027 (جولائی 2026 سے شروع) تک پیش گوئیاں کی ہیں۔
آئی ایم ایف کا قبل از وقت نرمی کے خلاف انتباہ
آئی ایم ایف نے جو جمعرات کو اپنا دوسرا جائزہ جاری کیا کہا کہ مانیٹری پالیسی کو توقعات کو برقرار رکھنے کے لیے مناسب حد تک سخت اور ڈیٹا پر منحصر رہنا چاہیے ۔ آئی ایم ایف نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک نے مستقبل کی بنیاد پر مثبت حقیقی شرح سود برقرار رکھی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سخت پالیسی نے افراط زر کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اسے برقرار رکھنا قیمتوں کے استحکام اور بیرونی بفرز کی بحالی کے لیے ضروری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ خطرات اور اسٹیٹ بینک کی مثبت حقیقی شرح سود برقرار رکھنے کی ترجیح پالیسی سازوں کو محتاط رکھے گی۔
خوراک اور نقل و حمل کی قیمتوں میں اضافہ اور بنیادی اثرات کے ختم ہونے کی وجہ سے افراط زر دوبارہ بڑھنا شروع ہوگیا ہے۔ نومبر میں افراط زر 6.1 فیصد رہا جو اکتوبر کے 6.2 فیصد سے کم ہے مگر اسٹیٹ بینک کے ہدف 5 سے7 فیصد سے زیادہ ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق افراط زر رواں مالی سال عارضی طور پر 8 سے 10 فیصد تک پہنچ سکتا ہے تاہم بعد میں مستحکم ہو جائے گا۔
اگرچہ پاکستان کی مجموعی معاشی صورتحال میں کچھ حد تک استحکام آیا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ بحالی کا عمل بیرونی دباؤ کے لیے اب بھی بہت حساس ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر قبل از وقت شرح سود میں کمی کی گئی تو روپے پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، حتیٰ کہ آئی ایم ایف کی جانب سے متوقع 1.2 بلین ڈالر کی ادائیگی بھی ہونے کے باوجود، جو ذخائر کو مضبوط کرنے اور موسمیاتی اصلاحات کی حمایت کے لیے ہے۔
عارف حبیب لمیٹڈ کی ہیڈ آف ریسرچ ثناء توفیق نے کہا کہ طلب میں کسی بھی اضافے کا بیرونی محاذ پر منفی اثر پڑے گا۔






















Comments