BR100 Increased By (0.75%)
BR30 Increased By (0.97%)
KSE100 Increased By (0.45%)
KSE30 Increased By (0.44%)
BAFL 58.78 Increased By ▲ 0.34 (0.58%)
BIPL 25.41 Increased By ▲ 0.21 (0.83%)
BOP 34.33 Increased By ▲ 0.34 (1%)
CNERGY 8.16 Increased By ▲ 0.05 (0.62%)
DFML 20.95 Increased By ▲ 0.11 (0.53%)
DGKC 195.34 Increased By ▲ 2.37 (1.23%)
FABL 89.93 Increased By ▲ 0.14 (0.16%)
FCCL 53.50 Increased By ▲ 0.67 (1.27%)
FFL 18.08 Increased By ▲ 0.13 (0.72%)
GGL 19.36 Increased By ▲ 0.39 (2.06%)
HBL 286.99 Increased By ▲ 1.49 (0.52%)
HUBC 215.29 Increased By ▲ 0.91 (0.42%)
HUMNL 10.85 Decreased By ▼ -0.03 (-0.28%)
KEL 8.09 Increased By ▲ 0.07 (0.87%)
LOTCHEM 27.80 Decreased By ▼ -0.09 (-0.32%)
MLCF 87.26 Increased By ▲ 0.75 (0.87%)
OGDC 322.75 Increased By ▲ 2.79 (0.87%)
PAEL 39.89 Increased By ▲ 0.47 (1.19%)
PIBTL 16.97 Increased By ▲ 0.30 (1.8%)
PIOC 270.98 Increased By ▲ 4.92 (1.85%)
PPL 229.65 Increased By ▲ 1.47 (0.64%)
PRL 34.94 Increased By ▲ 0.26 (0.75%)
SNGP 99.32 Increased By ▲ 0.14 (0.14%)
SSGC 26.86 Increased By ▲ 0.26 (0.98%)
TELE 8.64 Increased By ▲ 0.36 (4.35%)
TPLP 8.65 Increased By ▲ 0.43 (5.23%)
TRG 69.80 Increased By ▲ 0.09 (0.13%)
UNITY 11.70 Increased By ▲ 0.03 (0.26%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)
کاروبار اور معیشت

ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے پاور پیکیج میں ترامیم کی تجویز پیش کر دی

  • لوڈ فیکٹر کی شرط 40 فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے، خرم مختار
شائع December 7, 2025 اپ ڈیٹ December 7, 2025 10:30am

پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ٹی ای اے) نے صنعتی اور زرعی شعبوں کے لیے تین سالہ پاور انکریمنٹل پیکیج میں ترامیم کی تجویز پیش کی ہے۔ یہ پیکیج غیر فعال پیداواری صلاحیت کے استعمال اور معیشت کے اہم شعبوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

تاہم، صنعت کے نمائندگان نے متعدد خدشات کا اظہار کیا ہے، جبکہ نیپرا نے بھی سوال اٹھایا کہ وفاقی کابینہ کی منظوری سے قبل پاور ڈویژن نے صنعتی صارفین — جو پیکیج کے بنیادی فائدہ اٹھانے والے ہیں سے مشاورت کیوں نہیں کی۔

پی ٹی ای اے کے پیٹرن اِن چیف خرم مختار نے وزیرِ توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کو ارسال کیے گئے خط میں کئی خامیاں اجاگر کیں جو منصوبے کے بنیادی مقصد کو متاثر کر سکتی ہیں۔ خرم مختار نے کہا کہ لوڈ فیکٹر کی شرط 40 فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے، تاکہ اسپننگ، ویونگ، پروسیسنگ اور دیگر مسلسل عمل والے شعبے مؤثر طور پر حصہ لے سکیں۔ انہوں نے کہا کہ وسیع پیمانے پر شمولیت پاور ڈویژن کے بجلی کی طلب بڑھانے اور کیپیسٹی پیمنٹس کم کرنے کے ہدف کے لیے ضروری ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ شعبے چوبیس گھنٹے کام کرتے ہیں، توانائی کی شدت زیادہ ہے اور مستقل لوڈ فراہم کرتے ہیں جو گرڈ کی استحکام کو بہتر بناتا ہے۔ لہٰذا ایسی صنعتی شرائط جو ان عملی حقائق کو نظر انداز کرتی ہیں، وہ انہی صنعتوں کو خارج کر دیں گی جو گرڈ کو مستحکم رکھتی ہیں اور ڈسکوز کے لیے مستقل آمدنی فراہم کرتی ہیں۔

پی ٹی ای اے کے مطابق پاکستان کا کل صنعتی منظور شدہ لوڈ 19,810 میگاواٹ ہے، جس کے حساب سے نظریاتی طور پر 174,015 جی ڈبلیو ایچ کی ضرورت ہے، لیکن نیپرا کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 24 میں حقیقی صنعتی کھپت صرف 22,532 جی ڈبلیو ایچ رہی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 60 فیصد لوڈ فیکٹر کی تجویز زیادہ تر صنعتوں کے لیے قابلِ حصول نہیں اور یہ حقیقی صنعتی طلب کی عکاسی نہیں کرتی۔

خرم مختار نے کہا کہ 40 فیصد لوڈ فیکٹر کی شرط عملی حقائق کے مطابق ہونی چاہیے تاکہ صنعتی طلب میں مسلسل اضافہ ممکن ہو۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایک سال کی بنیاد پر (دسمبر 2023 تا نومبر 2024) ریفرنس پیریڈ استعمال کرنا درست نہیں، کیونکہ توانائی کی کمی، گرڈ کی غیر مستحکم صورتحال، اقتصادی سست روی اور آرڈر کی تبدیلیاں کھپت کو متاثر کرتی ہیں۔

پی ٹی ای اے نے تین سالہ اوسط استعمال کرنے کی تجویز دی تاکہ اہلیت میں وسعت آئے، زیادہ منصفانہ معیار قائم ہو اور وفاقی حکومت کے صنعتی لوڈ بڑھانے کے مقصد کو بہتر طور پر حاصل کیا جا سکے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

200 حروف