BR100 Increased By (0.29%)
BR30 Increased By (0.37%)
KSE100 Increased By (0.07%)
KSE30 Increased By (0.23%)
BAFL 57.50 Increased By ▲ 0.76 (1.34%)
BIPL 26.94 Decreased By ▼ -0.10 (-0.37%)
BOP 33.95 Increased By ▲ 0.27 (0.8%)
CNERGY 10.63 Increased By ▲ 0.82 (8.36%)
DFML 18.15 Decreased By ▼ -0.37 (-2%)
DGKC 209.50 Increased By ▲ 1.63 (0.78%)
FABL 99.50 Increased By ▲ 0.60 (0.61%)
FCCL 53.75 Increased By ▲ 0.23 (0.43%)
FFL 16.50 Decreased By ▼ -0.18 (-1.08%)
GGL 23.84 Increased By ▲ 0.27 (1.15%)
HBL 302.16 Decreased By ▼ -2.23 (-0.73%)
HUBC 219.25 Increased By ▲ 1.14 (0.52%)
HUMNL 10.52 Decreased By ▼ -0.14 (-1.31%)
KEL 7.30 Decreased By ▼ -0.05 (-0.68%)
LOTCHEM 29.87 Increased By ▲ 0.76 (2.61%)
MLCF 96.30 Increased By ▲ 0.80 (0.84%)
OGDC 317.99 Increased By ▲ 0.05 (0.02%)
PAEL 41.90 Increased By ▲ 0.07 (0.17%)
PIBTL 16.78 Increased By ▲ 0.28 (1.7%)
PIOC 297.01 Increased By ▲ 17.00 (6.07%)
PPL 220.44 Increased By ▲ 0.70 (0.32%)
PRL 49.05 Increased By ▲ 4.46 (10%)
SNGP 106.30 Decreased By ▼ -1.19 (-1.11%)
SSGC 29.26 Increased By ▲ 0.33 (1.14%)
TELE 8.89 Increased By ▲ 0.13 (1.48%)
TPLP 12.56 Increased By ▲ 0.46 (3.8%)
TRG 60.26 Increased By ▲ 0.23 (0.38%)
UNITY 10.08 Decreased By ▼ -0.03 (-0.3%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)

حکومت کی اسلام آباد سے لاہور موٹروے پر جدید موسمی الرٹ سسٹم نافذ کرنے کی تیاری

  • ویدر آن دی وے منصوبہ مسافروں کو حقیقی وقت میں مقامی موسمی معلومات فراہم کرے گا
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان نے اسلام آباد سے لاہور موٹروے پر دنیا کے جدید ترین روڈ ویدر الرٹ سسٹمز میں سے ایک کے نفاذ کی تیاری کر لی ہے، جسے ویدر آن دی وے منصوبے کے تحت متعارف کرایا جائے گا۔

یہ منصوبہ ویدر والے اور ون نیٹ ورک کے درمیان شراکت داری کا پہلا تجربہ ہے جو خطے میں اس نوعیت کا ہے اور یہ بڑے سفر کے راستے پر مسافروں کو حقیقی وقت میں مقامی موسمی معلومات فراہم کرے گا۔

یہ جدید سسٹم 14 خودکار موسمی اسٹیشنز، 5 فضائی معیار کے سینسرز، 4 وژیبلیٹی سینسرز، سیٹلائٹ فیڈز اور موسمی پیش گوئیوں کو ملا کر کام کرتا ہے۔ ڈیٹا کو ایک ڈسیژن سپورٹ انجن کے ذریعے پروسیس کیا جاتا ہے جو دھند، بارش، ہوا، کم وژیبلیٹی اور دیگر موسمی خطرات کی نگرانی کرتا ہے۔

معلومات بعد میں موبائل ایپس، ویب پلیٹ فارمز اور ٹول پلازوں پر نصب اسکرینز کے ذریعے مسافروں تک پہنچائی جاتی ہیں، تاکہ وہ محفوظ اور باخبر فیصلے کر سکیں۔

یہ اقدام پاکستان میں روڈ ویدر انٹیلی جنس میں ایک اہم سنگِ میل ہے، جہاں پہلی بار سڑکوں کے آپریٹرز، پبلک ایجنسیاں اور ڈرائیور ایک ہی وقت میں درست موسمی معلومات تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔

مذکورہ سسٹم کے ذریعے نہ صرف موٹروے سفر بلکہ زراعت، توانائی، ٹورزم، لاجسٹکس اور ماحولیاتی نگرانی کے شعبے بھی مستفید ہوں گے۔ مثال کے طور پر کسان اس ڈیٹا کی مدد سے آبپاشی اور بوائی کی منصوبہ بندی کر سکیں گے، دھند والے راستوں کا انتظام بہتر ہوگا اور مقامی ماحول میں ڈینگی یا فصلوں کی بیماریوں کے امکانات کی نگرانی ممکن ہو سکے گی۔

ویدر والے کے کام کا دائرہ پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے اور یہ یورپی، امریکی، سوئس اور مقامی موسمی ماڈلز کو پاکستان کے مقامی حالات کے مطابق ترتیب دیتا ہے۔ منصوبے کے تحت عوام، مسافر، پبلک ادارے اور پبلک سیفٹی ایجنسیاں بہتر منصوبہ بندی اور فوری کارروائی کے قابل ہوں گی۔

Comments

Comments are closed.