BR100 Increased By (0.87%)
BR30 Increased By (1.2%)
KSE100 Increased By (0.57%)
KSE30 Increased By (0.58%)
BAFL 58.79 Increased By ▲ 0.35 (0.6%)
BIPL 25.64 Increased By ▲ 0.44 (1.75%)
BOP 34.38 Increased By ▲ 0.39 (1.15%)
CNERGY 8.11 No Change ▼ 0.00 (0%)
DFML 20.95 Increased By ▲ 0.11 (0.53%)
DGKC 196.00 Increased By ▲ 3.03 (1.57%)
FABL 89.91 Increased By ▲ 0.12 (0.13%)
FCCL 53.51 Increased By ▲ 0.68 (1.29%)
FFL 18.07 Increased By ▲ 0.12 (0.67%)
GGL 19.29 Increased By ▲ 0.32 (1.69%)
HBL 287.48 Increased By ▲ 1.98 (0.69%)
HUBC 215.20 Increased By ▲ 0.82 (0.38%)
HUMNL 10.84 Decreased By ▼ -0.04 (-0.37%)
KEL 8.15 Increased By ▲ 0.13 (1.62%)
LOTCHEM 27.90 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
MLCF 87.79 Increased By ▲ 1.28 (1.48%)
OGDC 323.19 Increased By ▲ 3.23 (1.01%)
PAEL 40.16 Increased By ▲ 0.74 (1.88%)
PIBTL 17.07 Increased By ▲ 0.40 (2.4%)
PIOC 270.20 Increased By ▲ 4.14 (1.56%)
PPL 229.95 Increased By ▲ 1.77 (0.78%)
PRL 34.85 Increased By ▲ 0.17 (0.49%)
SNGP 99.60 Increased By ▲ 0.42 (0.42%)
SSGC 26.88 Increased By ▲ 0.28 (1.05%)
TELE 8.75 Increased By ▲ 0.47 (5.68%)
TPLP 8.70 Increased By ▲ 0.48 (5.84%)
TRG 70.10 Increased By ▲ 0.39 (0.56%)
UNITY 11.74 Increased By ▲ 0.07 (0.6%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)

حکومت کی اسلام آباد سے لاہور موٹروے پر جدید موسمی الرٹ سسٹم نافذ کرنے کی تیاری

  • ویدر آن دی وے منصوبہ مسافروں کو حقیقی وقت میں مقامی موسمی معلومات فراہم کرے گا
شائع December 1, 2025 اپ ڈیٹ December 1, 2025 01:57pm

پاکستان نے اسلام آباد سے لاہور موٹروے پر دنیا کے جدید ترین روڈ ویدر الرٹ سسٹمز میں سے ایک کے نفاذ کی تیاری کر لی ہے، جسے ویدر آن دی وے منصوبے کے تحت متعارف کرایا جائے گا۔

یہ منصوبہ ویدر والے اور ون نیٹ ورک کے درمیان شراکت داری کا پہلا تجربہ ہے جو خطے میں اس نوعیت کا ہے اور یہ بڑے سفر کے راستے پر مسافروں کو حقیقی وقت میں مقامی موسمی معلومات فراہم کرے گا۔

یہ جدید سسٹم 14 خودکار موسمی اسٹیشنز، 5 فضائی معیار کے سینسرز، 4 وژیبلیٹی سینسرز، سیٹلائٹ فیڈز اور موسمی پیش گوئیوں کو ملا کر کام کرتا ہے۔ ڈیٹا کو ایک ڈسیژن سپورٹ انجن کے ذریعے پروسیس کیا جاتا ہے جو دھند، بارش، ہوا، کم وژیبلیٹی اور دیگر موسمی خطرات کی نگرانی کرتا ہے۔

معلومات بعد میں موبائل ایپس، ویب پلیٹ فارمز اور ٹول پلازوں پر نصب اسکرینز کے ذریعے مسافروں تک پہنچائی جاتی ہیں، تاکہ وہ محفوظ اور باخبر فیصلے کر سکیں۔

یہ اقدام پاکستان میں روڈ ویدر انٹیلی جنس میں ایک اہم سنگِ میل ہے، جہاں پہلی بار سڑکوں کے آپریٹرز، پبلک ایجنسیاں اور ڈرائیور ایک ہی وقت میں درست موسمی معلومات تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔

مذکورہ سسٹم کے ذریعے نہ صرف موٹروے سفر بلکہ زراعت، توانائی، ٹورزم، لاجسٹکس اور ماحولیاتی نگرانی کے شعبے بھی مستفید ہوں گے۔ مثال کے طور پر کسان اس ڈیٹا کی مدد سے آبپاشی اور بوائی کی منصوبہ بندی کر سکیں گے، دھند والے راستوں کا انتظام بہتر ہوگا اور مقامی ماحول میں ڈینگی یا فصلوں کی بیماریوں کے امکانات کی نگرانی ممکن ہو سکے گی۔

ویدر والے کے کام کا دائرہ پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے اور یہ یورپی، امریکی، سوئس اور مقامی موسمی ماڈلز کو پاکستان کے مقامی حالات کے مطابق ترتیب دیتا ہے۔ منصوبے کے تحت عوام، مسافر، پبلک ادارے اور پبلک سیفٹی ایجنسیاں بہتر منصوبہ بندی اور فوری کارروائی کے قابل ہوں گی۔

Comments

Comments are closed.