ایف بی آر کا ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم برقرار رکھنے کا فیصلہ
- ٹی اینڈ ٹی سسٹم برقرار رہے گا، ویڈیو اینالیٹکس صرف معاون ہوگا ، ایف بی آر کی وضاحت
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے واضح کیا ہے کہ ٹریک اینڈ ٹریس(ٹی اینڈ ٹی) سسٹم کو ویڈیو اینالیٹکس سے تبدیل نہیں کیا جا رہا، جو مختلف شعبوں میں نصب کیا جا رہا ہے، کیونکہ ٹی اینڈ ٹی محفوظ ٹریکنگ، ڈیجیٹل آڈٹ ٹریل اور اینڈ ٹو اینڈ کمپلائنس فراہم کرتا ہے۔
ذرائع کے مطابق بڑے حجم والے شعبوں میں اچانک ٹی اینڈ ٹی سے ویڈیو اینالیٹکس پر منتقلی سنگین پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔ اس لیے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کو مزید شعبوں میں وسعت دی جانی چاہیے، جبکہ ویڈیو اینالیٹکس صرف عارضی اور معاون ٹیکنالوجی کے طور پر استعمال ہو سکتی ہے۔
متعدد اسٹیک ہولڈرز نے کہا کہ ویڈیو اینالیٹکس کو قائم شدہ نظام کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ ایک اضافی حفاظتی تہہ کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں ریگولیٹری نگرانی کو جدید بنانے اور شفافیت بڑھانے کی کوششوں نے ڈیجیٹل مانیٹرنگ ٹولز کے استعمال پر دوبارہ بحث کو جنم دیا ہے۔
اگرچہ ویڈیو اینالیٹکس فزیکل حرکت کی نگرانی کے لیے مفید ہے، یہ خود ٹیکس واجبات کی تصدیق، پیداوار کی مقدار کی توثیق یا مال کی حفاظت کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ اس کے مقابلے میں ٹی اینڈ ٹی سسٹم مصنوعات کی آغاز سے مارکیٹ تک ٹمپر پروف ٹریکنگ فراہم کرتا ہے۔
شوگر انڈسٹری نے کہا کہ ٹی اینڈ ٹی پہلے ہی ایف بی آر کے ریونیو میں مؤثر کردار ادا کر رہا ہے، اس لیے اے آئی کیمروں کی اضافی تنصیب غیر ضروری مالی بوجھ ہوگی۔
اسٹیک ہولڈرز نے زور دیا کہ مرحلہ وار نفاذ، مؤثر ڈیٹا شیئرنگ اور اداروں کے درمیان مضبوط تعاون کے ذریعے شفافیت، کمپلائنس اور مارکیٹ اعتماد کو بڑھایا جا سکتا ہے۔
ماہرین نے کہا کہ کامیاب پروگرام جیسے ٹی اینڈ کو مزید شعبوں تک وسعت دی جائے اور ویڈیو اینالیٹکس کو صرف معاون سطح پر استعمال کیا جائے ، تاکہ مکمل فوائد حاصل ہوں اور نگرانی کے موجودہ نظام کی قابلیت متاثر نہ ہو۔























Comments
Comments are closed.