پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیزفائر جاری حملوں کے باعث برقرار نہیں رہ سکا، دفتر خارجہ
- سیز فائر ایک ایسا سمجھوتا تھا جس کے تحت افغان سرپرستی میں چلنے والے دہشت گرد گروہوں نے پاکستان کے اندر حملے روکنے تھے، ترجمان
پاکستان نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ سیزفائر کا جو سمجھوتہ تھا، اسے موثر نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ افغان سرزمین سے شروع ہونے والے دہشت گرد حملے یقین دہانیوں کے باوجود جاری ہیں۔
ترجمان دفترِ خارجہ نے ایک بریفنگ میں کہا کہ یہ انتظام دونوں ریاستوں کے درمیان روایتی سیزفائر کبھی تھا ہی نہیں بلکہ ایک ایسا سمجھوتہ تھا جس کے تحت افغان سرپرستی میں چلنے والے دہشت گرد گروہوں نے پاکستان کے اندر حملے روکنے تھے۔
انہوں نے کہا کہ سیزفائر کے اعلان کے بعد ٹی ٹی پی، ایف اے کے اور افغان شہریوں کی جانب سے کیے گئے بڑے حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وعدے پر عمل نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ “اگر افغان شہری مسلسل حملے کر رہے ہیں، جیسا کہ حال ہی میں اسلام آباد اور دیگر مقامات پر دیکھا گیا، تو ہم سیزفائر کے بارے میں زیادہ پُرامید نہیں رہ سکتے۔”
ترجمان نے زور دیا کہ اس سمجھوتے کو سرحد پار دہشت گردی کی روک تھام کے مخصوص تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ دو ملکوں کے درمیان کسی روایتی سیزفائر کے طور پر۔






















Comments
Comments are closed.