پاکستان کی واشنگٹن میں افغان شہری کی فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت
- تاجکستان میں چینی کارکنوں کے قتل پر بھی دفتر خارجہ کا اظہار افسوس ، متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار
پاکستان نے واشنگٹن ڈی سی میں فائرنگ کے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے، جس میں مبینہ طور پر ایک افغان شہری ملوث تھا اسے ٹارگٹڈ دہشت گردی کا عمل قرار دیا گیا۔
جاری بیان میں دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ایک امریکی فوجی کی ہلاکت پر اظہار افسوس اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش ظاہر کی۔انہوں نے متاثرہ خاندانوں اور امریکی حکومت و عوام سے ہمدردی بھی کی۔
طاہر اندرا بی نے اس حملے کو ایک بہیمانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں میں ایسے کئی واقعات کا سامنا کر چکا ہے جن کا تعلق افغانستان سے جڑا رہا۔ ان کے مطابق یہ واقعہ سرحد پار دہشت گردی کے خطرے کی نشاندہی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ فائرنگ عالمی سطح پر دہشت گردی کے دوبارہ بڑھنے کا اشارہ ہے اور اس خطرے سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف امریکہ اور عالمی برادری کے ساتھ تعاون کے عزم پر قائم ہے۔
دفتر خارجہ کی تاجکستان میں چینی شہریوں کی ہلاکت کی مذمت
ایک بیان میں دفتر خارجہ نے چین اور تاجکستان سے بھی ہمدردی کا اظہار کیا، جہاں سرحد کے قریب مبینہ دہشت گرد حملے میں تین چینی کارکن ہلاک ہوئے۔
دفتر خارجہ نے حملے کی غیر مشروط مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں مسلح ڈرون کا استعمال ایک سنگین اضافہ ہے، جو افغان سرزمین سے جنم لینے والے خطرے کو نمایاں کرتا ہے۔
پاکستان نے کہا کہ ایک ایسا پڑوسی ہونے کے ناطے جو بارہا افغانستان سے منظم ہونے والی دہشت گردی کا نشانہ بنتا رہا ہے، وہ چین اور تاجکستان کے غم میں برابر کا شریک ہے۔
ترجمان نے زور دیا کہ افغان سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے اور اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ دہشت گرد گروہوں کی موجودگی علاقائی سلامتی کے لیے سنگین مسئلہ ہے۔
دفتر خارجہ نے مطالبہ کیا کہ ایسے حملوں کے ذمہ داروں، سہولت کاروں اور مالی معاونت کرنے والوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق کارروائی کی جائے۔
پاکستان نے یقین دلایا کہ وہ چین، تاجکستان اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر خطے میں امن و استحکام کے لیے کام جاری رکھے گا۔






















Comments
Comments are closed.