BR100 Increased By (0.21%)
BR30 Increased By (0%)
KSE100 Increased By (0.22%)
KSE30 Increased By (0.25%)
BAFL 57.09 Increased By ▲ 0.22 (0.39%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.42 Increased By ▲ 0.07 (0.23%)
CNERGY 13.15 Increased By ▲ 0.03 (0.23%)
DFML 16.70 Increased By ▲ 0.80 (5.03%)
DGKC 193.38 Increased By ▲ 0.93 (0.48%)
FABL 94.25 Increased By ▲ 0.11 (0.12%)
FCCL 52.90 Increased By ▲ 0.11 (0.21%)
FFL 14.82 Increased By ▲ 0.10 (0.68%)
GGL 19.20 Decreased By ▼ -0.36 (-1.84%)
HBL 307.29 Increased By ▲ 1.19 (0.39%)
HUBC 201.99 Increased By ▲ 0.57 (0.28%)
HUMNL 10.17 Increased By ▲ 0.01 (0.1%)
KEL 6.10 Increased By ▲ 0.01 (0.16%)
LOTCHEM 26.52 Increased By ▲ 0.06 (0.23%)
MLCF 93.70 Increased By ▲ 0.54 (0.58%)
OGDC 315.90 Decreased By ▼ -0.83 (-0.26%)
PAEL 35.65 Increased By ▲ 0.02 (0.06%)
PIBTL 14.99 Increased By ▲ 0.31 (2.11%)
PIOC 243.70 Increased By ▲ 0.49 (0.2%)
PPL 226.00 Decreased By ▼ -0.91 (-0.4%)
PRL 93.70 Increased By ▲ 0.68 (0.73%)
SNGP 91.95 Increased By ▲ 0.11 (0.12%)
SSGC 23.74 Decreased By ▼ -0.07 (-0.29%)
TELE 7.87 Increased By ▲ 0.07 (0.9%)
TPLP 12.90 Decreased By ▼ -0.07 (-0.54%)
TRG 56.87 Increased By ▲ 0.31 (0.55%)
UNITY 8.05 Decreased By ▼ -0.02 (-0.25%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

ملکی معیشت کی آئندہ پیش رفت کا محرک ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن ہوگا ، ماہرین

  • ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری سے پاکستان ترقی کے نئے راستے کھول سکتا ہے ، پاکستان بزنس کونسل کی اعلیٰ سطح کانفرنس
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان بزنس کونسل کی اعلیٰ سطح کانفرنس ڈائیلاگ آن دی اکانومی میں ٹیکنالوجی اور تاجر رہنماؤں نے زور دیا کہ پاکستان کی اگلی بڑی معاشی پیش رفت ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال اور مضبوط ٹیک ایکسپورٹ ایکو سسٹم سے ہوگی۔

دو روزہ ایونٹ میں سینئر سرکاری حکام، ماہرینِ معاشیات، عالمی ترقیاتی اداروں، کارپوریٹ رہنماؤں اور پالیسی ماہرین نے شرکت کی، جہاں پاکستان کی معاشی صورتحال، علاقائی مواقع، ٹیکس اصلاحات، موسمیاتی لچک اور سرمایہ کاری و جدت کے مستقبل پر گفتگو کی گئی۔

مکالمے کا مقصد اہم پالیسی ترجیحات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا اور پائیدار و جامع ترقی کے لیے قابلِ عمل تجاویز پیش کرنا تھا۔

یہ ایونٹ پی بی سی کے 20 برس مکمل ہونے کا سنگِ میل بھی ہے، جس نے پاکستان کے کاروباری ماحول کو بہتر بنانے اور وزرا، پالیسی سازوں، ماہرینِ معاشیات، عالمی شراکت داروں اور کاروباری رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

پروگرام کے ایک سیشن بعنوان ٹیکنالوجی اور اے آئی کے ذریعے معاشی خوشحالی میں ماہرین نے ڈیجیٹل جدت کی اہمیت پر روشنی ڈالی جو پاکستان کی معیشت کو تیزی سے بدل رہی ہے۔

اس نشست کی نظامت ڈاکٹر علی حسنین نے کی، جبکہ پینل میں ابو بکر (سی ای او پی ایس ای بی)، فاطمہ اسعد سید (سی ای او ابیکَس گلوبل)، مونس رحمان (بانی و چیئرمین روزی، دکان، ریکروٹ اے آئی) اور صفوان شاہ (سی ای او و بانی پے ایکٹیو) شامل تھے۔

گفتگو کا محور پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو تیز کرنا، آئی ٹی ایکسپورٹس کو مضبوط بنانا، اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے پیداواری صلاحیت، مالی شمولیت اور مسابقت میں اضافہ تھا۔

مقررین نے کہا کہ موزوں پالیسیوں، تربیت یافتہ افرادی قوت اور ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری سے پاکستان ترقی کے نئے راستے کھول سکتا ہے اور خود کو علاقائی ٹیکنالوجی حب کے طور پر منوا سکتا ہے۔

پاکستان کی معیشت اس مرحلے پر ہے جہاں شفافیت، پیشگی اندازے کے قابل اصلاحات اور اداروں کے درمیان بہتر تعاون ناگزیر ہو چکا ہے۔

اس پس منظر میں پی بی سی کی دو دہائیوں پر محیط شواہد پر مبنی پالیسی تجاویز نے مسابقت، سرمایہ کاری، پالیسی ہم آہنگی اور قومی ترقی میں ذمہ دار بزنس کے کردار سے متعلق مباحثے کی بنیاد فراہم کی۔

اپنے کلیدی خطاب میں پی بی سی کی چیئرپرسن ڈاکٹر زیلاف منیر نے کہا کہ پیداواری کاروبار قومی ترقی کی بنیاد ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معاشی مضبوطی کا انحصار شواہد پر مبنی پالیسی، استحکام اور طویل المدتی اصلاحات پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ کاروباری ترقی کے لیے پیش بینی، منصفانہ پالیسی اور اعتماد ضروری ہیں، جو ایک مسابقتی معیشت کی بنیاد بنتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ پائیدار ترقی کے لیے حکومت، کاروباری اداروں، تعلیمی شعبے اور سول سوسائٹی کے درمیان شراکت داری لازمی ہے۔

کانفرنس میں مالیاتی پالیسی، جغرافیائی حالات میں پاکستان کے ابھرتے کردار، مالیاتی ڈھانچے، موسمیاتی لچک اور مسابقت کی راہ میں حائل رکاوٹوں جیسے موضوعات پر بھی گفتگو کی گئی۔

Comments

Comments are closed.