اسلام آباد خودکش حملے کا منصوبہ ٹی ٹی پی سربراہ نے افغانستان میں بنایا ، وفاقی وزیر اطلاعات
- زیر حراست مشتبہ شخص ساجد اللہ خودکش حملہ آور کو پاکستان لیکر آیا ، عطا اللہ تارڈ
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڈ نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں خودکش بم دھماکے کی منصوبہ بندی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ نور ولی محسود نے افغانستان میں کی تھی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ بمبار اپنے اصل ہدف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہا ہے کیونکہ وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے تھے۔
11 نومبر کو اسلام آباد کے جی 11 سیکٹر میں ڈسٹرکٹ جسٹس کمپلیکس کے باہر ہونے والے دھماکے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 36 زخمی ہوئے تھے۔
وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ خودکش حملے کے سلسلے میں چار مشتبہ افراد، جن میں مبینہ ماسٹر مائنڈ بھی شامل ہے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے گرفتار کر لیے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار شدہ مشتبہ افراد کی شناخت ساجد اللہ عرف شینا، کامران خان، محمد زالی اور شاہ منیر کے طور پر کی گئی ہے۔
عطا اللہ تارڈ نے کہا کہ ساجد اللہ عرف شینا نے 2015 میں افغان طالبان میں شمولیت اختیار کی اور مختلف کیمپوں میں تربیت حاصل کی۔
انہوں نے بتایا کہ اگست 2025 میں ساجد اللہ افغانستان گیا،تاکہ شدت پسند داد اللہ سے ملاقات کرکے موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے رابطے میں رہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ داد اللہ نے نور ولی محسود کی جانب سے راولپنڈی اور اسلام آباد میں خودکش حملے کے احکامات ساجد اللہ کو پہنچائے۔
عطا اللہ تارڑ کے مطابق ساجد اللہ نے خودکش حملہ آور عثمان شینواری، جو ننگرہار افغانستان کا رہائشی تھا کو اس کے دھماکہ خیز جیکٹ سمیت پاکستان پہنچانے کی ذمہ داری نبھائی۔ بعد ازاں شینواری نے اسلام آباد کے جی 11 کے علاقے میں حملہ کیا۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ دہشت گرد بڑا نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن وہ اپنے اصل ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔
وزیر اطلاعات نے ساجد اللہ کا ایک ویڈیو بیان بھی چلایا، جس میں اس نے حملے کی منصوبہ بندی اور اس کی سہولت کاری میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔






















Comments
Comments are closed.