وفاقی وزارتِ خزانہ نے حال ہی میں مالی سال 26-2025 کی پہلی سہ ماہی کے مالیاتی آپریشنز سے متعلق معلومات جاری کی ہیں۔
اعدادوشمار پر پہلی نظر مثبت تاثر دیتی ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے 2,119 ارب روپے کا بجٹ سرپلس حاصل کیا ہے۔ یہ نہ صرف ایک بڑا مثبت حجم ہے بلکہ 25-2024 کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں 11.7 فیصد زیادہ ہے۔
تاہم، بعد میں واضح ہوتا ہے کہ 25-2024 اور 26-2025 کی پہلی سہ ماہی کے سرپلَس اس وجہ سے ظاہر ہوئے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے دونوں برسوں میں انہی سہ ماہیوں کے دوران سالانہ منافع کی بڑی رقوم، 25-2024 میں 2,500 ارب روپے اور 26-2025 میں 2,428 ارب روپے، منتقل کیں۔
اگر اس بڑی سالانہ منتقلی کو یکساں سہ ماہی حصوں میں تقسیم کیا جائے تو 26-2025 کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی بجٹ سرپلس 298 ارب روپے بنتا ہے، جب کہ 25-2024 کی پہلی سہ ماہی میں یہ صرف 21 ارب روپے تھا۔
چنانچہ 26-2025 کی پہلی سہ ماہی میں عوامی مالیات کی بہتر صورتحال کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔ اس بہتری میں شامل عوامل کا جائزہ ذیل میں پیش ہے:
پہلا سوال محصولات کی کارکردگی سے متعلق ہے۔ ایف بی آر کے محاصل میں 12.6 فیصد کی نسبتاً کم شرحِ نمو دیکھی گئی، جو نہ صرف متوقع 13 فیصد برائے نام جی ڈی پی شرحِ نمو سے کم ہے بلکہ 26-2025 کے وفاقی بجٹ میں مقررہ 18.6 فیصد ہدف سے بھی نیچے ہے۔ اس طرح پہلے ہی 153 ارب روپے کا شارٹ فال سامنے آیا ہے۔
وفاقی ٹیکسوں میں سب سے مایوس کن کارکردگی انکم ٹیکس کی رہی، جس کی شرحِ نمو 10.9 فیصد رہی، جب کہ سال کے لیے مقررہ ہدف 19.1 فیصد ہے۔ سیلز ٹیکس میں 12.5 فیصد اور کسٹم ڈیوٹی میں 11.9 فیصد کی معمولی نمو ریکارڈ ہوئی۔ واحد ٹیکس جس میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا وہ ایکسائز ڈیوٹی ہے، جس کی شرحِ نمو 25.8 فیصد رہی۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ صوبائی ٹیکس محاصل میں مضبوطی دیکھی گئی، اور ان کی شرحِ نمو تقریباً 27 فیصد رہی۔
اب سرکاری اخراجات کا جائزہ لیا جائے تو 26-2025 کی پہلی سہ ماہی میں کچھ غیرمعمولی رجحانات سامنے آئے ہیں۔ وفاق اور چاروں صوبوں کے مجموعی جاری اخراجات کی شرحِ نمو ترقیاتی اخراجات اور سرکاری اداروں کو دیے جانے والے قرضوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ رہی۔ جاری اخراجات میں اضافہ 14.4 فیصد ہے، جب کہ ترقیاتی اخراجات اور نیٹ لینڈنگ میں اضافہ صرف 6.9 فیصد رہا۔
14.4 فیصد کی بلند شرحِ نمو کی وجہ وفاق اور صوبوں کے جاری اخراجات میں یکساں طور پر 14 فیصد سے زائد اضافہ ہے۔ وفاقی سطح پر اخراجات میں سب سے تیز اضافہ گرانٹس اور سبسڈیز میں ہوا، جو 69.5 فیصد تک بڑھیں۔ خوش قسمتی سے مستقل شرحِ سود کے باعث قرضوں کی ادائیگی کی لاگت صرف 5.4 فیصد بڑھی۔ اسی طرح دفاعی اخراجات میں بھی 9.3 فیصد کا نسبتاً کم اضافہ ہوا، حالانکہ بجٹ کے مطابق پورے سال کے لیے اس میں 16.8 فیصد اضافہ متوقع ہے۔
پہلی سہ ماہی میں صوبائی جاری اخراجات میں بھی تقریباً 15 فیصد کی تیز رفتار اضافہ دیکھنے میں آیا۔ پنجاب نے تقریباً 17 فیصد اضافہ رپورٹ کیا، جو ممکنہ طور پر سیلاب سے متعلق ہنگامی امدادی اخراجات کی وجہ سے ہے۔ بلوچستان حکومت نے جاری اخراجات میں 34 فیصد کا غیرمعمولی اضافہ ظاہر کیا ہے، جس کی وجوہات واضح نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ 26-2025 میں مجموعی بجٹ اہداف کے حصول کے لیے صوبائی حکومتوں کو جاری اخراجات میں زیادہ سخت کفایت شعاری برتنی ہوگی۔
ترقیاتی اخراجات اور پبلک سیکٹر انٹرپرائزز ( پی ایس ایز) کو دیے گئے قرضوں کی مجموعی سطح پہلی سہ ماہی میں صرف 7 فیصد کے معمولی اضافے کے ساتھ 295 ارب روپے تک محدود رہی ہے۔ تاہم، یہ صورتحال دراصل ایک غیرمعمولی پیش رفت کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے، جسے ذیل میں بیان کیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت نے پہلی سہ ماہی میں ترقیاتی منصوبوں پر صرف 41 ارب روپے خرچ کیے، جو ترقیاتی اخراجات کے سالانہ ہدف، 1,287 ارب روپے، کا محض 3 فیصد بنتا ہے۔ اخراجات کی یہ کم سطح مجموعی بجٹ سرپلس کا ایک اہم سبب ہے۔
اس کے برعکس صوبائی حکومتوں نے ترقیاتی اخراجات پر اپنی توجہ برقرار رکھی ہے اور پہلی سہ ماہی میں 400 ارب روپے خرچ کیے۔ یہ گزشتہ سال کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں تقریباً 57 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے، جس کی ایک وجہ سیلاب کے بعد انفرااسٹرکچر کی بحالی کے اخراجات بھی ہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ منصوبوں کے انتخاب اور عملدرآمد کا عمل بتدریج موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی حکمتِ عملی کی طرف منتقل ہوگا۔
پہلی سہ ماہی کے بجٹ اعداد میں سب سے بڑا حیران کن عنصر وفاقی حکومت کی جانب سے پی ایس ایز کو نیٹ لینڈنگ ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ ریاستی اداروں نے الٹا قرضوں کی واپسی کی ہے۔ قرضوں کی یہ واپسی 146 ارب روپے جتنی قابلِ ذکر رقم پر مشتمل ہے اور اس نے بجٹ سرپلس میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
مجموعی طور پر مالی سال 26-2025 کی پہلی سہ ماہی میں وفاقی و صوبائی حکومتوں نے ایک مشترکہ بجٹ سرپلس حاصل کیا ہے، حتیٰ کہ اگر اسٹیٹ بینک کے منافع کو چاروں سہ ماہیوں میں یکساں تقسیم شدہ مانا جائے، تب بھی۔
تاہم، بعض تشویشناک پہلو بھی موجود ہیں۔ اول، ایف بی آر کی محصولات کارکردگی پہلے ہی 153 ارب روپے کے بڑے شارٹ فال کی نشاندہی کر رہی ہے۔ آئندہ آئی ایم ایف مراجعات میں یہ مسئلہ بدستور مرکزی توجہ کا باعث رہے گا۔
دوم، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو جاری اخراجات پر مزید قابو پانے کی ضرورت ہے۔ اگر پاکستان نے آنے والے برسوں میں انفرااسٹرکچر کی توسیع کے ذریعے پائیدار جی ڈی پی شرحِ نمو حاصل کرنی ہے تو زیادہ وسائل ترقیاتی اخراجات کی طرف منتقل کرنا ہوں گے۔
مالی سال 26-2025 کی بقیہ تین سہ ماہیوں کے اہداف نہایت بلند ہیں۔ مجموعی بجٹ خسارے کو 25-2024 کے 5.4 فیصد کے مقابلے میں کم ہو کر جی ڈی پی کے 3.9 فیصد تک لانا ہوگا۔ آئی ایم ایف سے طے شدہ ہدف کے مطابق جی ڈی پی کے 2 فیصد کے بڑے پرائمری سرپلس کا حصول بھی ضروری ہے۔ ان اہداف تک پہنچنے کے لیے سرکاری مالیاتی نظم و نسق کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھنا ناگزیر ہوگا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.