اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے غیر ملکی کرنسی کی فروخت سے متعلق قواعد و ضوابط میں ترمیم کی ہے جس میں ایکسچینج کمپنیز کو ہدایت دی کہ وہ مقامی افراد کے لیے غیر ملکی کرنسی خریدتے وقت اکاؤنٹ سے اکاؤنٹ منتقلی کو لازمی بنائیں تاکہ وہ اسے اپنے غیر ملکی کرنسی بینک اکاؤنٹس میں جمع کروائیں۔
جمعہ کو ایکسچینج کمپنیوں کو جاری کیے گئے ایک سرکلر میں، مرکزی بینک نے ایکسچینج کمپنیوں کے لیے ریگولیٹری فریم ورک کے باب 7، پیرا 5 کے تحت موجودہ رہنما اصولوں کا حوالہ دیا اور نوٹ کیا کہ ان ہدایات میں اب ترمیم کر دی گئی ہے۔
سرکلر میں کہا گیا کہ کیس لیس معیشت کو فروغ دینے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا کہ اب سے پاکستان کے مقامی شہریوں کے ایف سی وائے اکاؤنٹس میں جمع کے لیے غیر ملکی کرنسی کی تمام فروخت کی لین دین صرف اکاؤنٹ ٹو اکاؤنٹ ٹرانسفر کے ذریعے کی جائے گی۔
اس کے ساتھ کہا گیا کہ آر ایف ای سی کے مذکورہ پیرا میں ترمیم کر دی گئی ہے۔
اس سے قبل ایکسچینج کمپنیوں کو یہ اجازت تھی کہ وہ غیر ملکی کرنسی نقد رقم میں فروخت کریں، چاہے صارف اسے ایف سی وائے اکاؤنٹ میں جمع کروانا چاہتا ہو، بشرطیکہ شناختی تصدیق 500 ڈالر یا اس سے زیادہ کی لین دین کے لیے بایومیٹرک ضروریات اور 2,000 ڈالر یا اس سے زیادہ کی ایف سی وائے خریداری کے لیے بینک کے ذریعے روپے میں ادائیگی لازمی ہو۔
ماہرین نے کہا کہ اس ترمیم کے بعد منی چینجرز ایف سی وائے جمع کروانے کے لیے نقد رقم فراہم نہیں کرینگے، اب وہ براہ راست ٹرانسفر کریں گے۔
اس اقدام پر تبصرہ کرتے ہوئے سید علی عمران جو کہ کارپوریٹ اور انویسٹمنٹ بینکنگ کے ماہر ہیں نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ یہ ضابطہ ٹرانزیکشن کی شناخت اور اینٹی منی لانڈرنگ کنٹرولز کو بہتر بناتا ہے، کیونکہ اس سے جمع کرنے کے تمام عمل براہِ راست بینکنگ نیٹ ورک کے ذریعے ہوں گے جس سے ذرائع اور منزل کا تعین آسان ہو جائے گا۔
ایس بی پی نے تمام ایکسچینج کمپنیوں کو ہدایت دی کہ تبدیل شدہ رہنما اصولوں کو متعلقہ عملے تک پہنچائیں اور مکمل تعمیل کے ساتھ نافذ کریں۔
























Comments
Comments are closed.