رواں مالی سال کے پہلے 4 ماہ میں 14ہزار 802 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ
- رجسٹریشنز کا 99.9 فیصد آن لائن ، کل رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 272,918 تک پہنچ گئی
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے مالی سال 2025-26 کے پہلے چار مہینوں (جولائی تا اکتوبر) میں 14,802 نئی کمپنیاں رجسٹر ہونے کا اعلان کیا، جو ملک کے کارپوریٹ سیکٹر میں اعتماد میں اضافے کا مظہر ہے۔
ایس ای سی پی کے مطابق ان میں سے 99.9 فیصد رجسٹریشنز آن لائن ای زیڈ فائل کے ذریعے کی گئیں، جس سے کل رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 272,918 تک پہنچ گئی اور ادا شدہ سرمایہ 20.59 ارب روپے رہا۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کے شعبوں میں سب سے زیادہ 2,999 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔ کمپنی کے ڈھانچے کے لحاظ سے نئی رجسٹریشنز میں 59 فیصد پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیاں، 37 فیصد سنگل ممبر کمپنیاں اور باقی 4 فیصد پبلک ان لسٹڈ، نان پروفٹ، تجارتی ادارے اور لمیٹڈ لائبیلٹی پارٹنرشپ شامل ہیں۔
اس دوران 10 غیر ملکی کمپنیوں نے پاکستان میں بزنس کے مقامات قائم کیے۔
کمپنیوں کی رجسٹریشن لاہور، اسلام آباد، کراچی کے علاوہ تقریباً 250 دیگر شہروں سے بھی کی گئی، جو کل رجسٹریشنز کا 30 فیصد بنتا ہے۔
ان شہروں میں لیہ، بوریوالا، بھکر، پاکپتن، حصیلپور، چمن، گوادر، ژوب، تربت، بنوں، کوہاٹ، ٹنک، سوات، مانسہرہ، ٹھٹہ، لاڑکانہ، دادو، روہڑی، ہنزہ اور گلگت شامل ہیں۔
صوبائی لحاظ سے پنجاب میں 7,476، اسلام آباد میں 3,230، سندھ میں 2,197، خیبر پختونخوا میں 1,320، گلگت بلتستان میں 337 اور بلوچستان میں 242 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔
شعبہ جاتی لحاظ سے انفارمیشن ٹیکنالوجی، ای کامرس، ٹریڈنگ، سروسز، رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ، ٹورازم، تعلیم، فوڈ اینڈ بیوریجز، مائننگ، مارکیٹنگ، ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل، زراعت، ہیلتھ کیئر، انجینئرنگ اور فیول و انرجی سرگرم رہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی مثبت رجحان دیکھا گیا، 332 نئی کمپنیاں بین الاقوامی سرمایہ کاروں سے فنڈنگ حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔
اس عرصے میں ایس ای سی پی نے کل 94 لائسنسز جاری کیے، جن میں کیپٹل مارکیٹ، این بی ایف سیز، سیکیورٹیز مارکیٹ، انشورنس سروئرز اور نان پروفٹ ایسوسی ایشنز کے لائسنس شامل ہیں۔
ایس ای سی پی نے کہا کہ وہ کاروباری کمیونٹی میں انکارپوریٹ کرنے کے فوائد جیسے محدود ذمہ داری، علیحدہ قانونی حیثیت، بہتر ساکھ، توسیع پذیری، مستقل جانشینی، منظم حکمرانی، ٹیکس کی بچت، آسان مالی رسائی اور مضبوط برانڈ پروٹیکشن کے بارے میں آگاہی مہم بھی شروع کر رہا ہے۔























Comments
Comments are closed.