صائم ایوب اور ابرار احمد کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے سیریز جیت لی
- یہ پاکستان کی ہوم گراؤنڈ پر جنوبی افریقہ کے خلاف پہلی ون ڈے سیریز کی جیت ہے۔ اس سے قبل 2003 اور 2007 میں پاکستان دو بار 3-2 سے سیریز ہار چکا تھا۔
صائم ایوب کی نصف سنچری اور ابرار احمد کی شاندار بولنگ کی بدولت پاکستان نے جنوبی افریقہ کو 7 وکٹوں سے شکست دے کر سیریز 2-1 سے اپنے نام کر لی۔
بائیں ہاتھ کے اوپنر بیٹر صائم ایوب نے نصف سنچری اسکور کی جبکہ اسپنر ابرار احمد نے چار وکٹیں حاصل کیں، جس کی بدولت پاکستان نے تیسرے ون ڈے میں جنوبی افریقہ کو سات وکٹوں سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز 2-1 سے جیت لی۔
صائم ایوب نے 70 گیندوں پر 77 رنز کی دلکش اننگز کھیلی جس میں 11 چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔ انہوں نے پاکستان کو 25.1 اوورز میں 144 رنز کا ہدف عبور کرایا۔ اس سے قبل ابرار احمد نے 27 رنز کے عوض چار وکٹیں حاصل کر کے جنوبی افریقہ کی ٹیم کو 37.5 اوورز میں 143 رنز پر ڈھیر کر دیا۔
صائم ایوب نے بابر اعظم (27) کے ساتھ دوسری وکٹ کی شراکت میں 65 رنز جوڑے جبکہ نندرے برگر نے اننگز کی دوسری گیند پر فخر زمان کو بغیر کھاتہ کھولے آؤٹ کیا۔
بابر اعظم رن آؤٹ ہوئے جس پر فیصل آباد کے اقبال اسٹیڈیم میں موجود 16 ہزار تماشائیوں نے مایوسی کا اظہار کیا۔ وہ اب لگاتار 32 ون ڈے اننگز میں سنچری بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
صائم ایوب اسپنر بیورن فورٹین کی گیند پر آؤٹ ہوئے، جس کے بعد محمد رضوان (32 ناٹ آؤٹ) اور سلمان آغا (5 ناٹ آؤٹ) نے ہدف مکمل کر کے ٹیم کو کامیابی دلائی۔
یہ فتح پاکستان کی سرزمین پر جنوبی افریقہ کے خلاف پہلی ون ڈے سیریز جیت ہے۔ اس سے قبل 2003 اور 2007 میں پاکستان دو بار 3-2 سے سیریز ہار چکا تھا۔
فاتح کپتان شاہین شاہ آفریدی نے کہا کہ ’’یہ جیت مکمل ٹیم کی محنت کا نتیجہ ہے اور ہماری کوششوں کا صلہ ہے۔‘‘
شاہین، جو پہلی بار ون ڈے میں قومی ٹیم کی قیادت کر رہے تھے، نے مزید کہا کہ ’’یہ کامیابی ہمیں آئندہ میچوں کے لیے اعتماد فراہم کرے گی۔‘‘
مہمان کپتان میتھیو بریٹزکے نے ابرار احمد کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم 250 سے زیادہ اسکور کا ہدف رکھ رہے تھے لیکن ابرار نے شاندار بولنگ کی اور ہم نے بہت زیادہ وکٹیں گنوا دیں۔‘‘
بریٹزکے زخمی کپتان ٹیمبا باوما کی جگہ ٹیم کی قیادت کر رہے تھے۔
اس سے پہلے جنوبی افریقہ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا، لیکن مضبوط آغاز کے باوجود ٹیم کے بیٹسمینوں کا سلسلہ ٹوٹ گیا اور وہ 37.5 اوورز میں صرف 143 رنز پر آؤٹ ہو گئے۔
یہ رنز پاکستان کے لیے کبھی بھی چیلنج نہیں بنے اور میزبان ٹیم نے اپنے ہدف کو تین وکٹوں کے نقصان پر صرف 149 گیندوں میں حاصل کر لیا۔
جنوبی افریقہ نے ابتداء میں اچھا کھیل پیش کیا اور لیفٹ ہینڈرز کوئنٹن ڈی کوک (53) اور لوہانڈرے پریٹورئیس (39) نے 72 رنز کی شراکت قائم کی، لیکن اس کے بعد نو وکٹیں صرف 71 رنز کے اضافے پر گر گئیں۔
پاکستان کے اسپنرز نے اسکور کو محدود کیا اور گیند کو بھرپور انداز سے استعمال کرتے ہوئے مہمان ٹیم کے بیٹرز کو گرفت میں رکھا۔ ابرار احمد نے کیریئر کی بہترین بولنگ کرتے ہوئے 27 رنز کے عوض 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ سلمان آغا نے 18 رنز دے کر 2 اور محمد نواز نے 31 رنز کے عوض 2 وکٹیں لیکر بہترین بولنگ کی اور مڈل آرڈر کو تہیس نہس کر دیا۔ ابرار کی پہلی تین وکٹیں سب بولڈ تھیں،کیونکہ انہوں نے مختلف قسم کی گیندوں سے جنوبی افریقہ کے بیٹسمینز کو الجھا دیا تھا۔
پاکستان کے اوپنر فخر زمان مسلسل دوسرے میچ میں پہلی گیند پر آؤٹ ہو گئے لیکن صائم ایوب نے اننگز کو مستحکم کیا اور بابر اعظم (27) اور محمد رضوان (32 ناٹ آؤٹ) کے ساتھ مل کر ٹیم کو فتح دلائی۔
پاکستان منگل سے سری لنکا کے خلاف تین میچوں کی ون ڈے سیریز کا آغاز کرے گا، جبکہ جنوبی افریقہ برصغیر میں ہی رہ کر جمعہ سے بھارت کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا آغاز کرے گا۔
قبل ازیں پاکستانی بولرز نے جنوبی افریقہ کو ون ڈے سیریز کے تیسرے اور آخری فیصلہ کن میچ میں صرف 143 رنز تک محدود کر دیا تھا۔
پروٹیز کے اوپنرز لوہانڈرے پریٹورئیس (39) اور کوئنٹن ڈی کوک (53) ہی نمایاں رہے، جبکہ باقی بیٹسمینز جلدی آؤٹ ہو گئے۔
میسٹری اسپنر ابرار احمد سب سے مہلک ثابت ہوئے اور 27 رنز کے عوض چار وکٹیں حاصل کیں۔ سلمان آغا، محمد نواز اور شاھین شاہ آفریدی نے دو، دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
میچ میں پہلے ٹاس جیت کر جنوبی افریقہ نے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ پروٹیز کے سینتھمبا کیشلے انجری کی وجہ سے باہر ہیں اور جارج لینڈ کی جگہ لنگی نگیدی شامل ہوئے۔ پاکستان نے اس میچ میں نسیم شاہ اور محمد وسیم کو آرام دیا ہے۔
اس سے قبل دوسرے ون ڈے میں جنوبی افریقہ نے 6 نومبر کو فیصل آباد میں پاکستان کو آٹھ وکٹوں سے شکست دی تھی۔ پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 269 رنز بنائے، جس کا ہدف جنوبی افریقہ نے 40.1 اوورز میں دو وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔
یاد رہے کہ پہلے ون ڈے میں پاکستان نے 4 نومبر کو جنوبی افریقہ کو دو وکٹوں سے ہرا دیا تھا۔
جنوبی افریقا نے ہفتے کے روز پاکستان کیخلاف 3 میچوں کی سیریز کے فیصلہ کن میچ میں ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔
فیصل آباد کے اقبال اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے میچ میں پاکستان نے دو تبدیلیاں کی ہیں۔ محمد وسیم جونیئر اور نسیم شاہ کی جگہ حارث رؤف اور ابرار احمد کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔
جنوبی افریقی ٹیم میں بھی دو تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ جارج لنڈے کی جگہ لنگی نگیدی کو شامل کیا گیا ہے جبکہ انجری کا شکار ہونے والے کشیل کی جگہ روبن ہرمین ڈیبیو کریں گے۔
پلیئنگ الیون پاکستان: فخر زمان، صائم ایوب، بابر اعظم، محمد رضوان (وکٹ کیپر)، سلمان آغا، حسین طلعت، محمد نواز، فہیم اشرف، شاہین شاہ آفریدی (کپتان)، حارث رؤف، ابرار احمد
جنوبی افریقہ: لوان ڈری پریٹوریس، کوئنٹن ڈی کاک (وکٹ کیپر)، ٹونی ڈی زورزی، میتھیو بریٹزکے (کپتان)، روبن ہرمن، ڈونووین فریرا، جارج لنڈے، کوربن بوش، بیورن فورٹوئن، نینڈرے برگر، نکابیومزی پیٹر























Comments
Comments are closed.