ٹیکنالوجی کی دنیا سے زراعت کی جانب میرا نیا سفر
2015 میں دنیا بھر میں ٹیکنالوجی تیزی سے عام ہو رہی تھی ، تاہم پاکستان میں اس کے مکمل ثمرات ابھی نہیں پہنچ پائے تھے ، پھر بھی میں نے قدم بڑھایا ، میرا وژن سادہ تھا یعنی پاکستان کے ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کی تعمیر میں مدد فراہم کرنا ، دس سال بعد میں 500 سے زائد پروگرام منعقد کر چکا تھا اور کمیونٹیز اور کمپنیوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے میں کردار ادا کیا جس کا اختتام فیوچر فیسٹ پر ہوا، جو ملک کا سب سے بڑا ٹیکنالوجی اجتماع بن گیا۔ یہ شور سے بھرپور ، جوش و ولولہ انگیز ، تھکا دینے والا اور کامیاب ایونٹ تھا۔
ایکو سسٹم بنانے کا مقصد بھی عجیب ہوتا ہے یعنی خود کو غیر ضروری بنانا، جب ایکو سسٹم خود کفیل ہو جائے، آپس میں جڑ جائے ، اپنی سانسوں پر چلنے لگے تو وہ ڈھانچہ جو اسے سہارا دے رہا تھا اسے درمیان سے ہٹ جانا چاہیے۔
ماضی پر نظر ڈالوں تو شاید ہم نے یہ حد 2022 میں پہلے فیوچر فیسٹ کے ساتھ عبور کر لی تھی۔اس وقت مجھے نہیں لگتا تھا کہ میرا کام ختم ہو گیا ہے، اس لیے ہم چلتے رہے، مگر چار ایڈیشنز کے بعد آخر کار مجھے محسوس ہوا کہ میرا کردار یہاں مکمل ہو چکا ہے۔

میں یہ بات پشیمانی کے ساتھ نہیں بلکہ سکون و اطمینان کے ساتھ کہتا ہوں کہ فرض ادا ہو گیا۔ اب آگے بڑھنے کا وقت ہے ، ذاتی طور پر بھی اور پیشہ ورانہ طور پر بھی۔ میری کمپنی نے کئی دیگر کاروباروں کو جنم دیا، لیکن ایک خاموش سوال دل میں ابھرنے لگا کہ آخر کاروبار سے بڑا کیا ہے؟ میرے لیے جواب تھا کھیتی باڑی یہ وہ کام ہے جو زندگی کو سہارا دیتا ہے، ہمارے ملک کی فطری صلاحیتوں سے مطابقت رکھتا اور ہمیں زمین سے دوبارہ جوڑتا ہے جس پر ہم کھڑے ہیں۔
میں زراعت میں اس لیے نہیں آیا کہ قومی مسائل کا حل تلاش کروں یا معاشی بحرانوں کا کوئی جادوئی نسخہ پیش کرسکوں لیکن میرا یقین ہے کہ درست طریقے سے کی گئی زراعت معیشت، ماحول ،صحت اور انسانی زندگی کے ہر پہلو پر اثر ڈالتی ہے۔ پاکستان فطری طور پر ایک زرعی ملک ہے اور شاید اسی لیے ہم سب کسی نہ کسی درجے میں کسان ہیں، چاہے ہم خود کو ایسا نہ سمجھیں۔
میں ایک مختلف آزادی کا خواہاں تھا وہ نہیں جو معاشرہ پیش کرتا ہے بلکہ اصل انسانی آزادی یعنی اپنی خوراک خود اگانے، زمین کے قریب رہنے اور اُن قوتوں پر کم انحصار کرنے کی جو انسان کے اختیار سے باہر ہے۔ میری اہلیہ کے بقول یہ کہنا ہی عجیب ہے کہ انسان قدرت سے دور ہو گئے ہیں، کیونکہ انسان خود قدرت کا حصہ ہیں۔ ہم صرف طویل عرصے سے اس سے جدا ہیں اور میں نے یہ تعلق دوبارہ محسوس کیا۔

مسئلہ یہ ہے کہ جدید زراعت نے بھی یہ بات بھلا دی ہے۔ کھیتی باڑی دراصل انسان کا فطری کردار ہے، اپنے مشترکہ گھر کا خیال رکھنا چاہیے ، تاکہ وہ زیادہ صحت مند ہو۔ مگر صنعتی طریقے اکثر اس کے برعکس ہوتے ہیں ، زمین کو بگاڑتے ، پانی کو آلودہ کرتے اور انہی انسانوں کو نقصان پہنچاتے ہیں جنہیں وہ خوراک دیتے ہیں۔ یہ زراعت نہیں ترقی کے لبادے میں لپٹی ہوئی لوٹ مار ہے۔
آگے بڑھنے کا مطلب پیچھے جانا نہیں بلکہ سائنس، ٹیکنالوجی اور نگہبانی کے ساتھ بہتر آلات کے ساتھ قدرت کی طرف واپس لوٹنا ہے۔ دنیا بھر میں ری جنریٹیو ایگریکلچر زمینوں اور روزگار کو بحال کر رہا ہے،زمین کی زرخیزی لوٹا رہا ہے، غذائی اجزا کو دوبارہ گردش میں لا رہا ہے، نہ صرف پانی کی حفاظت کر رہا ہے بکہ حقیقی غذائیت سے بھرپور خوراک بھی پیدا کر رہا ہے۔
اس کا اصول سادہ ہے کہ قدرت پر اعتماد کرو کہ وہ اصل کام کرے گی اور منظم انداز میں وہ سب ہٹادو جو اسے نقصان پہنچاتا ہے، مصنوعی کیمیائی بوجھ، استحصالی رویے اور قلیل مدتی سوچ سے دور رہاجائے۔
پاکستان میں خیالات کی بھرمار ہے مگر عمل کی قلت ہے اور تین جڑے ہوئے بحران فوری طور پر عمل کے متقاضی ہیں:
● صحت: زہریلی اور غیر متوازن غذاؤں نے سنگین اثرات چھوڑے ہیں۔ ذیابیطس، امراضِ قلب، کم عمر متوقع زندگی اور بچوں میں غذائی قلت جیسے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
● ماحول: ماحولیاتی صورتحال بھی تشویشناک ہوگئی ہے۔ ہوا، پانی اور درجہ حرارت اب ہمارے خلاف ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ ہم برسوں سے قدرت کے اصولوں کے برعکس کام کرتے آئے ہیں۔
● معیشت: معاشی میدان میں درآمدات پر ہمارا انحصار خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ ہم تیل، دالیں اور دیگر بنیادی غذائی اجناس باہر سے منگواتے ہیں، جبکہ معمولی برآمدی کامیابیوں پر خوشیاں مناتے ہیں۔حقیقی پائیداری تب ہی ممکن ہے جب ہم وہ اجناس زیادہ مقدار میں پیدا اور محفوظ کریں جو خود استعمال کرتے ہیں۔
یہی تصور ایجاد فارمز کی بنیاد بنا۔ بظاہر یہ ایک عام فارم ہے اور میں ایک کسان، مگر مقصد اس سے کہیں بڑا ہے ، زمین کو صحت مند بنانا، حقیقی اور غذائیت سے بھرپور خوراک اُگانا۔ خوش قسمتی سے میں یہ کام سوچ سمجھ کر اور اُن وسائل کے ساتھ کر رہا ہوں جو بہت سے کسانوں کے پاس دستیاب نہیں، لیکن اصل کردار سب کا ایک ہی ہے یعنی محنت، بحالی اور زمین کی خدمت۔
ایجاد فارمز کا ہدف پاکستان کا پہلا ری جنریٹیو سینٹر آف ایکسیلنس بننا ہے، ایک ایسا عملی ماڈل جو پائیدار زراعت اور قدرتی نظام کے امتزاج سے نہ صرف زمین کو بحال کرے بلکہ دوسروں کے لیے بھی سیکھنے اور اشتراک کا دروازہ کھولے۔
لوگ اکثر پوچھتے ہیں ری جنریٹیو ایگریکلچر کیا ہے؟ یہ سوال درست ہے۔ مگر شاید اس سے بہتر سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایک استحصالی معیشت چاہتے ہیں یا بحالی پر مبنی ؟ یہ انتخاب صرف اس بات کا تعین نہیں کرتا کہ ہم کھیتی باڑی کیسے کرتے ہیں، بلکہ یہ طے کرتا ہے کہ ہم کیسے جیتے ہیں، کتنی صحت سے لطف اندوز ہوتے ہیں، کیسی ہوا میں سانس لیتے ہیں اور کتنی خودمختاری حاصل کرتے ہیں۔
میں نے ایکو سسٹم کو خود اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کیلئے ایک دہائی کا سفر طے کیا ۔اب میں ایک نئے ساتھی کے ساتھ تعمیر کر رہا ہوں جو ہمیشہ سے یہاں موجود تھا۔ وہ داد نہیں مانگتا، بس جگہ مانگتا ہے۔ اگر ہم اسے جگہ دیں تو وہ ہمیشہ کی طرح اپنا کام کرے گا یعنی اُگنا، شفا دینا اور رزق دینا۔ اس بار ایکو سسٹم کی کہانی کا ہیرو میں نہیں بلکہ قدرت ہے۔






















Comments
Comments are closed.