پاکستان بناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی وی ایم اے) کے چیئرمین شیخ عمر ریحان نے حکومت سے فوری طور پر زیر التواء سیلز ٹیکس ریفنڈز جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ خوردنی تیل اور گھی کی صنعت کو زیادہ ٹیکسوں اور ریگولیٹری رکاوٹوں خصوصاً سیلز ٹیکس ایکٹ کی شقوں 8بی اور 40بی کے نفاذ کے باعث شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے۔
پی وی ایم اے کی جنرل باڈی میٹنگ میں ایسوسی ایشن کے سینئر عہدیداران، اراکین اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ بھی شریک تھے۔اس موقع پر شیخ عمر ریحان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صنعت بڑھتی ہوئی لاگتوں کے باعث اپنے کاروبار کو برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس شعبے کا 90 فیصد خام مال درآمد کیا جاتا ہے اور ڈیوٹیوں اور ٹیکسوں میں اضافے کے باعث کاروباروں کو بھاری نقصانات اٹھانے پڑ رہے ہیں۔
ان کے مطابق صنعت پہلے ہی 45 فیصد سے زائد ٹیکس ادا کر رہی ہے، جس میں 35 فیصد درآمدی ڈیوٹی اور 10 فیصد ایڈوانس ٹیکس شامل ہے۔ یہ بوجھ غیر متناسب ہے اور صرف رجسٹرڈ و باضابطہ سیکٹر پر پڑتا ہے۔
پی وی ایم اے چیئرمین نے کہا کہ ریفنڈز کی ادائیگی میں طویل تاخیر کے باعث صنعت کو لیکویڈیٹی کے بحران کا سامنا ہے، جس سے پیداواری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے پاس پھنسے ہوئے فنڈز نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔کارخانوں پر تاخیر شدہ ریفنڈز کے باعث شدید مالی دباؤ ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر زیر التواء ادائیگیاں جاری کرے ، تاکہ صنعت کا پہیہ چلتا رہے۔
شیخ عمر نے خبردار کیا کہ اگر بروقت ریلیف فراہم نہ کیا گیا تو پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ ریگولیٹری تقاضوں میں نرمی کرے اور انتظامی مسائل کو حل کرے ،تاکہ صنعت کا تسلسل برقرار رہ سکے۔
جنرل باڈی اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے جو صنعت کے مسائل کو متعلقہ سرکاری اداروں کے سامنے باضابطہ طور پر پیش کرے ،تاکہ ان کا بروقت حل نکالا جا سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025























Comments
Comments are closed.