BR100 Increased By (0.03%)
BR30 Decreased By (-0.03%)
KSE100 Decreased By (-0.1%)
KSE30 Increased By (0%)
BAFL 56.99 Increased By ▲ 0.25 (0.44%)
BIPL 26.82 Decreased By ▼ -0.22 (-0.81%)
BOP 33.36 Decreased By ▼ -0.32 (-0.95%)
CNERGY 10.22 Increased By ▲ 0.41 (4.18%)
DFML 18.05 Decreased By ▼ -0.47 (-2.54%)
DGKC 208.90 Increased By ▲ 1.03 (0.5%)
FABL 98.97 Increased By ▲ 0.07 (0.07%)
FCCL 53.68 Increased By ▲ 0.16 (0.3%)
FFL 16.40 Decreased By ▼ -0.28 (-1.68%)
GGL 23.85 Increased By ▲ 0.28 (1.19%)
HBL 302.32 Decreased By ▼ -2.07 (-0.68%)
HUBC 219.03 Increased By ▲ 0.92 (0.42%)
HUMNL 10.55 Decreased By ▼ -0.11 (-1.03%)
KEL 7.20 Decreased By ▼ -0.15 (-2.04%)
LOTCHEM 29.38 Increased By ▲ 0.27 (0.93%)
MLCF 96.01 Increased By ▲ 0.51 (0.53%)
OGDC 317.70 Decreased By ▼ -0.24 (-0.08%)
PAEL 41.88 Increased By ▲ 0.05 (0.12%)
PIBTL 16.63 Increased By ▲ 0.13 (0.79%)
PIOC 296.12 Increased By ▲ 16.11 (5.75%)
PPL 219.75 Increased By ▲ 0.01 (0%)
PRL 47.85 Increased By ▲ 3.26 (7.31%)
SNGP 106.30 Decreased By ▼ -1.19 (-1.11%)
SSGC 29.02 Increased By ▲ 0.09 (0.31%)
TELE 8.83 Increased By ▲ 0.07 (0.8%)
TPLP 12.25 Increased By ▲ 0.15 (1.24%)
TRG 60.19 Increased By ▲ 0.16 (0.27%)
UNITY 10.05 Decreased By ▼ -0.06 (-0.59%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)

پاکستان بناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی وی ایم اے) کے چیئرمین شیخ عمر ریحان نے حکومت سے فوری طور پر زیر التواء سیلز ٹیکس ریفنڈز جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ خوردنی تیل اور گھی کی صنعت کو زیادہ ٹیکسوں اور ریگولیٹری رکاوٹوں خصوصاً سیلز ٹیکس ایکٹ کی شقوں 8بی اور 40بی کے نفاذ کے باعث شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے۔

پی وی ایم اے کی جنرل باڈی میٹنگ میں ایسوسی ایشن کے سینئر عہدیداران، اراکین اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ بھی شریک تھے۔اس موقع پر شیخ عمر ریحان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صنعت بڑھتی ہوئی لاگتوں کے باعث اپنے کاروبار کو برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس شعبے کا 90 فیصد خام مال درآمد کیا جاتا ہے اور ڈیوٹیوں اور ٹیکسوں میں اضافے کے باعث کاروباروں کو بھاری نقصانات اٹھانے پڑ رہے ہیں۔

ان کے مطابق صنعت پہلے ہی 45 فیصد سے زائد ٹیکس ادا کر رہی ہے، جس میں 35 فیصد درآمدی ڈیوٹی اور 10 فیصد ایڈوانس ٹیکس شامل ہے۔ یہ بوجھ غیر متناسب ہے اور صرف رجسٹرڈ و باضابطہ سیکٹر پر پڑتا ہے۔

پی وی ایم اے چیئرمین نے کہا کہ ریفنڈز کی ادائیگی میں طویل تاخیر کے باعث صنعت کو لیکویڈیٹی کے بحران کا سامنا ہے، جس سے پیداواری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے پاس پھنسے ہوئے فنڈز نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔کارخانوں پر تاخیر شدہ ریفنڈز کے باعث شدید مالی دباؤ ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر زیر التواء ادائیگیاں جاری کرے ، تاکہ صنعت کا پہیہ چلتا رہے۔

شیخ عمر نے خبردار کیا کہ اگر بروقت ریلیف فراہم نہ کیا گیا تو پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ ریگولیٹری تقاضوں میں نرمی کرے اور انتظامی مسائل کو حل کرے ،تاکہ صنعت کا تسلسل برقرار رہ سکے۔

جنرل باڈی اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے جو صنعت کے مسائل کو متعلقہ سرکاری اداروں کے سامنے باضابطہ طور پر پیش کرے ،تاکہ ان کا بروقت حل نکالا جا سکے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025

Comments

Comments are closed.