BR100 Decreased By (-0.23%)
BR30 Decreased By (-0.01%)
KSE100 Decreased By (-0.19%)
KSE30 Decreased By (-0.24%)
BAFL 59.02 Decreased By ▼ -0.14 (-0.24%)
BIPL 27.17 Decreased By ▼ -0.09 (-0.33%)
BOP 36.46 Increased By ▲ 0.46 (1.28%)
CNERGY 11.94 Increased By ▲ 0.69 (6.13%)
DFML 18.20 Increased By ▲ 0.12 (0.66%)
DGKC 218.03 Decreased By ▼ -2.16 (-0.98%)
FABL 100.40 Decreased By ▼ -0.15 (-0.15%)
FCCL 57.36 Increased By ▲ 0.48 (0.84%)
FFL 16.58 Increased By ▲ 0.07 (0.42%)
GGL 24.62 Increased By ▲ 0.72 (3.01%)
HBL 324.62 Decreased By ▼ -0.98 (-0.3%)
HUBC 225.64 Increased By ▲ 2.06 (0.92%)
HUMNL 10.79 Increased By ▲ 0.04 (0.37%)
KEL 7.32 Decreased By ▼ -0.10 (-1.35%)
LOTCHEM 27.14 Decreased By ▼ -0.06 (-0.22%)
MLCF 102.07 Decreased By ▼ -1.02 (-0.99%)
OGDC 319.19 Increased By ▲ 0.70 (0.22%)
PAEL 43.88 Decreased By ▼ -0.50 (-1.13%)
PIBTL 16.84 Decreased By ▼ -0.06 (-0.36%)
PIOC 274.84 Decreased By ▼ -1.02 (-0.37%)
PPL 221.55 Decreased By ▼ -0.93 (-0.42%)
PRL 63.75 Decreased By ▼ -0.06 (-0.09%)
SNGP 103.79 Decreased By ▼ -1.12 (-1.07%)
SSGC 27.28 Increased By ▲ 0.03 (0.11%)
TELE 8.62 Decreased By ▼ -0.19 (-2.16%)
TPLP 14.98 Increased By ▲ 0.01 (0.07%)
TRG 63.29 Increased By ▲ 0.92 (1.48%)
UNITY 11.51 Decreased By ▼ -0.39 (-3.28%)
WTL 1.23 Increased By ▲ 0.01 (0.82%)

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے ایک مقامی اسپورٹس چینل پر ایسے اشتہارات کی نمایاں موجودگی سے متعلق عوامی سوال کے باوجود سروگیٹ بیٹنگ کمپنیوں کے اشتہارات کے خلاف حکومت کے ”زیرو ٹالرنس“ موقف کو دہرایا ہے۔

وزیر اطلاعات نے یہ بیان ایک صحافی کی سوشل میڈیا پوسٹ کے جواب میں جاری کیا ہے، جس میں ٹین اسپورٹس ایچ ڈی پر روزانہ نشر ہونے والی ”بیٹنگ کمپنیوں کی کھلے عام تشہیر“ کو اجاگر کرتے ہوئے وزارت کی پالیسی پر عمل درآمد پر سوال اٹھایا گیا تھا۔

۔

سرکاری موقف واضح کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سروگیٹ بیٹنگ کمپنیوں کے اشتہارات قطعی طور پر ممنوع اور غیر قانونی ہیں۔

تاہم وزیر اطلاعات نے وضاحت کی کہ براہِ راست کھیلوں کی نشریات کے دوران نشر ہونے والے اشتہارات کے معاملے میں ایک قانونی خلا موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ “جب بین الاقوامی نشریاتی ادارے، جن سے نشریاتی حقوق حاصل کیے جاتے ہیں، اسٹیڈیم میں کوئی مواد دکھاتے ہیں تو وہ بین الاقوامی مقام اور بین الاقوامی نشریاتی پلیٹ فارم سے نشر ہوتا ہے، جس پر وہ مقامی چینل جو نشریاتی حقوق خریدتا ہے، کسی قسم کا کنٹرول یا اختیار نہیں رکھتا۔”

وزیر اطلاعات نے اشارہ دیا کہ بین الاقوامی نشریاتی اداروں کے فراہم کردہ فیڈ میں شامل ایسے اشتہارات کی نمائش مقامی چینل کے ضابطہ جاتی دائرہ اختیار سے باہر ہے۔

Comments

Comments are closed.