وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے ایک مقامی اسپورٹس چینل پر ایسے اشتہارات کی نمایاں موجودگی سے متعلق عوامی سوال کے باوجود سروگیٹ بیٹنگ کمپنیوں کے اشتہارات کے خلاف حکومت کے ”زیرو ٹالرنس“ موقف کو دہرایا ہے۔
وزیر اطلاعات نے یہ بیان ایک صحافی کی سوشل میڈیا پوسٹ کے جواب میں جاری کیا ہے، جس میں ٹین اسپورٹس ایچ ڈی پر روزانہ نشر ہونے والی ”بیٹنگ کمپنیوں کی کھلے عام تشہیر“ کو اجاگر کرتے ہوئے وزارت کی پالیسی پر عمل درآمد پر سوال اٹھایا گیا تھا۔
سرکاری موقف واضح کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سروگیٹ بیٹنگ کمپنیوں کے اشتہارات قطعی طور پر ممنوع اور غیر قانونی ہیں۔
تاہم وزیر اطلاعات نے وضاحت کی کہ براہِ راست کھیلوں کی نشریات کے دوران نشر ہونے والے اشتہارات کے معاملے میں ایک قانونی خلا موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ “جب بین الاقوامی نشریاتی ادارے، جن سے نشریاتی حقوق حاصل کیے جاتے ہیں، اسٹیڈیم میں کوئی مواد دکھاتے ہیں تو وہ بین الاقوامی مقام اور بین الاقوامی نشریاتی پلیٹ فارم سے نشر ہوتا ہے، جس پر وہ مقامی چینل جو نشریاتی حقوق خریدتا ہے، کسی قسم کا کنٹرول یا اختیار نہیں رکھتا۔”
وزیر اطلاعات نے اشارہ دیا کہ بین الاقوامی نشریاتی اداروں کے فراہم کردہ فیڈ میں شامل ایسے اشتہارات کی نمائش مقامی چینل کے ضابطہ جاتی دائرہ اختیار سے باہر ہے۔





















Comments
Comments are closed.