BR100 Decreased By (-0.53%)
BR30 Decreased By (-0.98%)
KSE100 Decreased By (-0.46%)
KSE30 Decreased By (-0.43%)
BAFL 56.95 Increased By ▲ 0.08 (0.14%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.12 Decreased By ▼ -0.23 (-0.76%)
CNERGY 13.00 Decreased By ▼ -0.12 (-0.91%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.99 Decreased By ▼ -4.46 (-2.32%)
FABL 93.90 Decreased By ▼ -0.24 (-0.25%)
FCCL 52.38 Decreased By ▼ -0.41 (-0.78%)
FFL 14.57 Decreased By ▼ -0.15 (-1.02%)
GGL 19.26 Decreased By ▼ -0.30 (-1.53%)
HBL 306.48 Increased By ▲ 0.38 (0.12%)
HUBC 200.00 Decreased By ▼ -1.42 (-0.7%)
HUMNL 10.00 Decreased By ▼ -0.16 (-1.57%)
KEL 6.12 Increased By ▲ 0.03 (0.49%)
LOTCHEM 26.39 Decreased By ▼ -0.07 (-0.26%)
MLCF 91.80 Decreased By ▼ -1.36 (-1.46%)
OGDC 315.00 Decreased By ▼ -1.73 (-0.55%)
PAEL 35.18 Decreased By ▼ -0.45 (-1.26%)
PIBTL 14.65 Decreased By ▼ -0.03 (-0.2%)
PIOC 240.89 Decreased By ▼ -2.32 (-0.95%)
PPL 222.72 Decreased By ▼ -4.19 (-1.85%)
PRL 91.39 Decreased By ▼ -1.63 (-1.75%)
SNGP 91.00 Decreased By ▼ -0.84 (-0.91%)
SSGC 23.35 Decreased By ▼ -0.46 (-1.93%)
TELE 7.70 Decreased By ▼ -0.10 (-1.28%)
TPLP 12.61 Decreased By ▼ -0.36 (-2.78%)
TRG 56.50 Decreased By ▼ -0.06 (-0.11%)
UNITY 8.08 Increased By ▲ 0.01 (0.12%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
پاکستان

ایتھانول برآمدات اور باسمتی رجسٹریشن، پاکستان کا یورپی یونین سے ڈیوٹی رعایتوں کے خاتمے پر تحفظات کا اظہار

پاکستان نے یورپی یونین کے ساتھ ایتھانول کی برآمدات پر جی ایس پی پلس اسکیم کے تحت ڈیوٹی رعایتوں کے خاتمے اور باسمتی...
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان نے یورپی یونین کے ساتھ ایتھانول کی برآمدات پر جی ایس پی پلس اسکیم کے تحت ڈیوٹی رعایتوں کے خاتمے اور باسمتی چاول کی جغرافیائی شناخت کی رجسٹریشن سے متعلق اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

یہ امور پیر کو وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور یورپی پارلیمنٹ کی ڈویلپمنٹ کمیٹی کے اعلیٰ سطح وفد کے درمیان ملاقات میں زیرِ بحث آئے۔ وفد کی قیادت آسٹریا کے لوکاس منڈل نے کی، جب کہ اراکینِ یورپی پارلیمنٹ رابرٹ بیڈرو (پولینڈ)، جوان فرنینڈو لوپیز آگویلر (اسپین)، توماش زڈیخووسکی (چیک ریپبلک)، اور مارک جونگن (جرمنی) بھی شریک تھے۔ پاکستان میں یورپی یونین کے سفیر ریمونڈس کیروبلیس بھی موجود تھے۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق، ملاقات میں پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا، خصوصاً جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت، جس نے پائیدار تجارت، ترقیاتی تعاون اور انسانی حقوق کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

جام کمال نے یورپی وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے یورپی یونین کی طویل شراکت داری پر شکریہ ادا کیا اور شفافیت، گڈ گورننس، اور پائیدار ترقی کے لیے پاکستان کے عزم کو دہرایا۔ انہوں نے انسانی حقوق، مزدور اصلاحات، موسمیاتی اقدامات اور ادارہ جاتی بہتری کے شعبوں میں پیش رفت سے آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے لیے 2026-2028 کی مدت کے لیے انتخاب پاکستان کے تعمیری کردار کا عالمی اعتراف ہے۔ اسی طرح نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس (این سی ایچ آر) کو حال ہی میں عالمی اتحاد برائے قومی انسانی حقوق اداروں کی جانب سے اے اسٹیٹس ایکریڈیٹیشن حاصل ہوئی ہے۔

وزیرِ تجارت نے جی ایس پی پلس اسکیم کے تحت ایتھانول کی برآمدات پر ڈیوٹی رعایتوں کے خاتمے اور باسمتی چاول کی جغرافیائی شناخت رجسٹریشن کے معاملات کو پاکستان کی دیہی معیشت اور لاکھوں کسانوں کے مفاد سے جڑا قرار دیا۔ انہوں نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ وہ ان مسائل پر منصفانہ اور غیرجانبدار فیصلہ کرے جو پاکستان کے حق اور ورثے کو تسلیم کرے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت بیرونی سرمایہ کاری کے لیے بہتر ماحول فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جن میں ٹیکسوں، توانائی کے اخراجات اور شرحِ سود میں کمی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ شرحِ پالیسی 22 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد کر دی گئی ہے، جب کہ صنعتی ترقی، ہنر مندی، اور انسانی وسائل کی ترقی پاکستان کی معاشی حکمتِ عملی کے بنیادی ستون ہیں۔

انہوں نے زراعت، فوڈ پروسیسنگ، ویلیو ایڈڈ ایکسپورٹس، ایس ایم ایز اور ای کامرس کو یورپی سرمایہ کاری کے لیے ترجیحی شعبے قرار دیا اور یورپی کمپنیوں کو ٹیکنالوجی ٹرانسفر، پائیدار زراعت اور فوڈ چین جدت میں تعاون کی دعوت دی۔

یورپی وفد نے پاکستان کی اصلاحاتی کوششوں، شفافیت، اور انسانی ترقی پر توجہ کو سراہا اور باہمی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ جام کمال خان نے اختتام پر کہا کہ پاکستان انسانی حقوق، مزدور اصلاحات اور ماحولیاتی اقدامات کے عالمی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے تاکہ یورپی یونین کے ساتھ پائیدار شراکت داری اور باہمی خوشحالی کو فروغ دیا جا سکے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.