BR100 Decreased By (-0.31%)
BR30 Decreased By (-0.55%)
KSE100 Decreased By (-0.13%)
KSE30 Decreased By (-0.06%)
BAFL 56.50 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
BIPL 24.53 Decreased By ▼ -0.10 (-0.41%)
BOP 29.95 Decreased By ▼ -0.17 (-0.56%)
CNERGY 12.72 Decreased By ▼ -0.26 (-2%)
DFML 17.83 Increased By ▲ 0.34 (1.94%)
DGKC 188.48 Increased By ▲ 1.26 (0.67%)
FABL 93.39 Decreased By ▼ -0.32 (-0.34%)
FCCL 51.55 Decreased By ▼ -0.10 (-0.19%)
FFL 14.43 Decreased By ▼ -0.06 (-0.41%)
GGL 18.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.79%)
HBL 302.16 Decreased By ▼ -1.62 (-0.53%)
HUBC 199.19 Increased By ▲ 0.23 (0.12%)
HUMNL 9.77 Decreased By ▼ -0.08 (-0.81%)
KEL 6.00 Decreased By ▼ -0.06 (-0.99%)
LOTCHEM 26.01 Decreased By ▼ -0.16 (-0.61%)
MLCF 91.20 Decreased By ▼ -0.03 (-0.03%)
OGDC 314.98 Increased By ▲ 1.59 (0.51%)
PAEL 34.95 Decreased By ▼ -0.29 (-0.82%)
PIBTL 14.29 Decreased By ▼ -0.42 (-2.86%)
PIOC 237.98 Decreased By ▼ -1.64 (-0.68%)
PPL 219.70 Decreased By ▼ -1.66 (-0.75%)
PRL 89.90 Decreased By ▼ -1.32 (-1.45%)
SNGP 90.86 Decreased By ▼ -0.01 (-0.01%)
SSGC 23.19 Decreased By ▼ -0.11 (-0.47%)
TELE 7.45 Decreased By ▼ -0.16 (-2.1%)
TPLP 12.17 Decreased By ▼ -0.39 (-3.11%)
TRG 54.91 Decreased By ▼ -0.88 (-1.58%)
UNITY 7.96 Decreased By ▼ -0.06 (-0.75%)
WTL 1.01 Increased By ▲ 0.01 (1%)

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ دوحہ مذاکرات میں طے پانے والے نکات پر پیش رفت کے لیے پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور آج ترکیہ کے شہر استنبول میں جاری ہے جس میں دوحہ میں طے معاملات کو آگے بڑھایا جائے گا۔

جمعہ کو ہونے والی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بات چیت کا دوسرا مرحلہ دوحہ ڈائیلاگ کا تسلسل ہے جس میں پہلے زیرِ بحث تمام مسائل پر مزید غور کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ دوحہ مذاکرات کے نتیجے میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان جنگ بندی قائم ہوئی، جس کے بعد افغان سرحد سے کوئی بڑا دہشت گردانہ حملہ رپورٹ نہیں ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دوحہ مذاکرات کے دوران ایک دستاویز پر دستخط کیے گئے، چاہے افغان طالبان اسے رسمی معاہدہ مانیں یا نہ مانیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

ترجمان نے وضاحت کی کہ حالیہ حفاظتی صورتحال کے باعث پاکستان اور افغانستان کے سرحدی راستے عارضی طور پر بند کیے گئے ہیں کیونکہ ایک عام پاکستانی کی جان کی حفاظت تجارت یا خوراک کی فراہمی سے زیادہ اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے ساتھ مخلصانہ رویہ اختیار کیا ہے تاہم صورتحال افغان زمین سے ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے بعد بدل گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان توقع رکھتا ہے کہ افغانستان مستقبل میں ایسے حملوں کی روک تھام کے لیے قابلِ تصدیق اقدامات کرے گا۔

طاہر اندرابی نے مزید کہا کہ پاکستان بھارت کی جانب سے ممکنہ خطرات کو سنجیدگی سے لے رہا ہے اور آزاد جموں و کشمیر میں کسی بھی بھارتی مہم جوئی کے جواب کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان نے یہ بھی نوٹ کیا کہ پاکستان علاقے میں اسرائیلی خلاف ورزیوں اور متعلقہ صورتحال پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

Comments

Comments are closed.