BR100 Decreased By (-0.22%)
BR30 Decreased By (-0.55%)
KSE100 Decreased By (-0.16%)
KSE30 Decreased By (-0.14%)
BAFL 57.05 Increased By ▲ 0.18 (0.32%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.22 Decreased By ▼ -0.13 (-0.43%)
CNERGY 13.04 Decreased By ▼ -0.08 (-0.61%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 189.99 Decreased By ▼ -2.46 (-1.28%)
FABL 94.11 Decreased By ▼ -0.03 (-0.03%)
FCCL 52.62 Decreased By ▼ -0.17 (-0.32%)
FFL 14.59 Decreased By ▼ -0.13 (-0.88%)
GGL 19.25 Decreased By ▼ -0.31 (-1.58%)
HBL 306.40 Increased By ▲ 0.30 (0.1%)
HUBC 201.00 Decreased By ▼ -0.42 (-0.21%)
HUMNL 10.01 Decreased By ▼ -0.15 (-1.48%)
KEL 6.17 Increased By ▲ 0.08 (1.31%)
LOTCHEM 26.45 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
MLCF 92.65 Decreased By ▼ -0.51 (-0.55%)
OGDC 315.39 Decreased By ▼ -1.34 (-0.42%)
PAEL 35.22 Decreased By ▼ -0.41 (-1.15%)
PIBTL 14.75 Increased By ▲ 0.07 (0.48%)
PIOC 242.50 Decreased By ▼ -0.71 (-0.29%)
PPL 223.75 Decreased By ▼ -3.16 (-1.39%)
PRL 92.16 Decreased By ▼ -0.86 (-0.92%)
SNGP 91.64 Decreased By ▼ -0.20 (-0.22%)
SSGC 23.70 Decreased By ▼ -0.11 (-0.46%)
TELE 7.68 Decreased By ▼ -0.12 (-1.54%)
TPLP 12.70 Decreased By ▼ -0.27 (-2.08%)
TRG 56.42 Decreased By ▼ -0.14 (-0.25%)
UNITY 8.07 No Change ▼ 0.00 (0%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)

پاکستان میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد میں مسلسل اضافہ کسی منظم ریاستی پالیسی کا نتیجہ نہیں بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور واپس آنے والے شہریوں کے لیے دیے گئے بیگیج کنسیشن کے ناجائز استعمال کا شاخسانہ ہے۔

ذرائع کے مطابق وزارتِ خزانہ کے وزیر محمد اورنگزیب کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) آئندہ اجلاس میں وزارتِ تجارت کی اس تجویز پر غور کرے گی جس کے تحت اوورسیز پاکستانیوں کے لیے تین سال پرانی گاڑیوں کی درآمد کی کم از کم دو اسکیمیں ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

وزارتِ تجارت کو فراہم کردہ ایچ ٹو کنسلٹنگ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی غیر متوازن درآمد صنعتی منصوبہ بندی کو متاثر کرتی ہے، غیر معیاری گاڑیاں منڈی میں لاتی ہے، اور ایک ایسے مافیا کو فروغ دیتی ہے جو ہنڈی حوالہ کے ذریعے درآمدات کی ادائیگی کرتا ہے، جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گاڑیوں کی انڈر انوائسنگ سے ٹیکس محصولات میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے، جبکہ صارفین اکثر ایسی گاڑیاں خرید لیتے ہیں جو بظاہر نئی دکھائی دیتی ہیں مگر اندرونی طور پر خراب ہوتی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جاپان سے درآمد ہونے والی 90 فیصد سے زائد گاڑیاں خریدار کے لیے ایک جوا ثابت ہوتی ہیں — یا تو وہ خوش قسمت ثابت ہوں گے یا اگلے ہی دن گاڑی ناکارہ ہو جائے گی۔

رپورٹ نے واضح کیا کہ حکومت کو عوام کی ضروریات پوری کرنے کے لیے قابلِ برداشت اور معیاری نقل و حمل کے متبادل ذرائع تلاش کرنے چاہییں، مگر استعمال شدہ گاڑیوں کا سیلاب کوئی دیرپا حل نہیں۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے، پالیسیوں کو پائیدار ماحول پر مرکوز ہونا چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق درآمدی گاڑیوں کے ساتھ ایک بڑا مسئلہ گاڑی کی اصل حالت اور اس کی مینٹیننس ہسٹری کا فقدان ہے۔ اکثر گاڑیاں شدید نقصان زدہ حالت میں درآمد ہوتی ہیں، اور مقامی مکینک ان کی مرمت کے لیے درکار مہارت نہیں رکھتے، جس سے غیر معیاری مرمت عام ہو جاتی ہے۔

رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ حکومت مقامی مینوفیکچررز کو مراعات دے، چھوٹی گاڑیوں پر ٹیکس کم کرے اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے تاکہ مقامی صنعت عالمی معیار کی مسابقت حاصل کر سکے۔

رپورٹ نے آخر میں خبردار کیا کہ اگر حکومت نے مقامی آٹو انڈسٹری کو ترک کر دیا تو اس کے ماحولیاتی اور معاشی اثرات سنگین ہوں گے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.