وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا یو این چارٹر اصولوں کے ساتھ وابستگی کا اعادہ، شفاف اور جامع کثیرالجہتی نظام کی ضرورت پر زور
پاکستان نے جمعرات کے روز اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور مقاصد کے ساتھ اپنی مضبوط وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ آج کے پیچیدہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک جامع، شمولیتی اور اصلاح شدہ کثیرالجہتی نظام کی ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ کے قیام کی 80ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ دنیا اس وقت “بڑھتی ہوئی عدم استحکام، وسیع ہوتی ہوئی عدم مساوات اور اداروں پر اعتماد کے فقدان” کا سامنا کر رہی ہے، جو عالمی امن و خوشحالی کے تحفظ کے لیے قائم کیے گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اور فلسطین جیسے حل طلب تنازعات نے لاکھوں افراد کو حق خود ارادیت سے محروم کر رکھا ہے، جب کہ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے اثرات اور عالمی مالیاتی نظام کی ساختی خامیوں نے ترقی پذیر ممالک میں عدم مساوات اور قرضوں کے بوجھ کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ “پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد و اصولوں سے گہری وابستگی رکھتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایک ایسا کثیرالجہتی نظام جو شمولیتی، نمائندہ اور اصلاح شدہ ہو، ہماری مشترکہ سلامتی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔”
انہوں نے زور دیا کہ کثیرالجہتی نظام میں اصلاحات کا مطلب اقوام متحدہ کو مسترد کرنا نہیں بلکہ اسے مزید مضبوط اور مؤثر بنانا ہے۔ “اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ مسلسل ارتقاء پذیر رہے، ساختی خامیوں کو دور کرے، ترقی پذیر ممالک کو زیادہ آواز دے اور تمام ممالک کے لیے منصفانہ انداز میں خدمات انجام دے۔”
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی تعلقات میں اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کی حمایت کی ہے اور امن مشنز، انسانی امداد، ترقیاتی تعاون اور ماحولیاتی استحکام میں فعال شراکت دار رہا ہے۔
انہوں نے کہا، “اقوام متحدہ کے امن مشنز میں سب سے زیادہ فوجی دستے فراہم کرنے والے ممالک میں سے ایک ہونے کے ناطے، اور اقوام متحدہ کے قدیم ترین مشن ( یو این ایم او جی آئی پی)کے میزبان کے طور پر، پاکستان عالمی استحکام کے لیے امن مشنز کی اہمیت پر پختہ یقین رکھتا ہے۔”
وزیر خارجہ نے 2025–26 کے لیے پاکستان کی بطور غیر مستقل رکن اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد تمام رکن ممالک کے ساتھ مل کر امن، انصاف اور کثیرالجہتی تعاون کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ رواں سال جولائی میں پاکستان کی صدارت میں سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 کی متفقہ منظوری اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان عالمی سفارت کاری میں تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کو اجاگر کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
ڈار نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے شروع کی گئی “UN80” مہم کا خیر مقدم کیا، جس کا مقصد عالمی ادارے کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور اسے موجودہ عالمی حقائق کے مطابق زیادہ مؤثر اور نمائندہ بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کے بنیادی مفادات اور ترجیحات کو 2030 کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول میں مرکزی حیثیت حاصل رہنی چاہیے اور خبردار کیا کہ اخراجات میں کمی کے نام پر اقوام متحدہ کے ترقیاتی و انسانی کردار کو کمزور نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے اختتام پر کہا کہ “اقوام متحدہ کے دن کے موقع پر پاکستان کثیرالجہتی نظام اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اس وژن کے ساتھ اپنی دیرپا وابستگی کا اعادہ کرتا ہے جو امن، ترقی اور تمام انسانوں کے وقار پر مبنی ہے۔”





















Comments
Comments are closed.