نایاب معدنیات کے میدان میں پاکستان کی نئی حکمت عملی
پاکستان اقتصادی سفر کے دوران اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں اس کے وسیع قدرتی وسائل جیسے تیل، معدنیات اور نایاب معدنیات ملکی مستقبل کو نئی سمت دے سکتے ہیں۔
جہاں تیل کی شراکت داریوں پر زیادہ توجہ دی گئی ہے، اصل موقع شاید زمین کے نیچے موجود معدنی دولت میں ہے جو بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ، اور پنجاب میں پھیلی ہوئی ہے۔
ملک کے تصدیق شدہ تیل کے ذخائر تقریباً 23.8 ملین بیرل ہیں، جو اس کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کےلیے ناکافی ہیں۔ کچھ تخمینے بتاتے ہیں کہ غیر دریافت شدہ ذخائر نو ارب بیرل تک پہنچ سکتے ہیں، لیکن ان میں سے بھی صرف ایک چھوٹا حصہ ہی تلاش کیا جا رہا ہے۔
آج پاکستان تیل کی ضروریات کا محض 10 سے 15 فیصد حصہ مقامی طور پر حاصل کرتا ہے اور باقی تیل مہنگے داموں درآمد کرتا ہے۔
ملک میں تیل اور گیس کے تقریباً 299 کنویں ہیں، جن میں زیادہ تر سندھ میں اور چند دوسرے صوبوں میں ہیں، مگر دریافت کا عمل سست ہے، جس کی وجہ پرانی ٹیکنالوجی، محدود غیر ملکی سرمایہ کاری اور سیکیورٹی مسائل ہیں۔
لکی مروت اور شمالی وزیرستان میں حالیہ دریافتوں نے امید کی نئی کرن پیدا کی ہے، لیکن ترقی کی رفتار سست ہے۔
ریکو ڈک کیس کے تجربات آج بھی یاد دہانی کرواتے ہیں کہ پاکستان کو اپنے معاہدے شفاف، منصفانہ اور عوام و ریاست کے حق میں بنانے چاہئیں۔
ریکو ڈک کیس کی وجہ سے 6 ارب ڈالر کا جرمانہ ہوا اور یہ کیس ایک واضح مثال ہے کہ کمزور قانونی اور مالی نظام کس طرح نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
2022 میں اس کا تصفیہ اور بریک گولڈ کی بحالی اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ دانشمندانہ اور اچھی طرح طے شدہ شراکت داری قومی مفادات کی حفاظت اور مقامی کمیونٹیز کے فائدے کے لیے ضروری ہیں۔
تیل کی تلاش اگرچہ ضروری ہے لیکن یہ بات زیادہ اہمیت کی حامل ہے کہ پاکستانی معیشت میں اصل تبدیلی نایاب معدنیات سے آ سکتی ہے۔
یہ معدنیات جدید دنیا کے لیے ناگزیر ہیں، جو الیکٹرک گاڑیوں، قابل تجدید توانائی کے نظام، اسمارٹ فونز اور دفاعی ٹیکنالوجیز میں استعمال ہوتی ہیں۔
پاکستان کے ذخائر خاص طور پر چاغی، مکران کوسٹ اور گلگت بلتستان میں بڑے پیمانے پر موجود ہیں۔ صرف چاغی میں 12 سے زائد قسم کی نایاب معدنیات پائی جاتی ہیں، جبکہ مکران کا ساحلی علاقہ اب بھی زیادہ تر دریافت سے محروم ہے۔
پاکستان کیلئے اہم موڑ تب آیا جب اس نے 500 ملین ڈالر کی شراکت داری کے تحت امریکی اسٹریٹیجک میٹلز کو نایاب معدنیات کی پہلی کھیپ فراہم کی۔
یہ اقدام پاکستان کو عالمی سطح پر نایاب معدنیات کے نقشے پر ابھرتی ہوئی سپلائی چین کے طور پر جگہ دیتا ہے جو چین کے غلبے کو متوازن کر سکتی ہے، جو فی الحال عالمی پیداوار کا تقریباً 80 فیصد کنٹرول کرتا ہے۔
پاکستان یوگانڈا کی کامیابی سے بھی سیکھ سکتا ہے، جس نے اپنی کان کنی کی صنعت کو ترقی دی۔ یوگانڈا نے اسپین کی ایک کمپنی کے ذریعے بیس ملین یورو کی لاگت سے فضائی معدنی سروے کیا، جس نے دو ہزار سے زائد علاقوں کا نقشہ بنایا اور سونا، تانبا، کوبالٹ اور نایاب معدنیات کے حامل سینکڑوں معدنی زونز کی نشاندہی کی۔
یہ سروے یوگانڈا کی صنعتی کاری اور روزگار کے قومی منصوبے کے مطابق تھا، جس نے کم ترقی یافتہ علاقوں میں سرمایہ کاری کے خطرات کو کم کیا۔
پاکستان بھی ایسی حکمت عملی اپنا سکتا ہے، خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا جیسے انفرااسٹرکچر سے محروم مگر وسائل سے مالا مال علاقوں کیلئے۔
پاکستان کی معدنی صلاحیت کو سامنے لانے کے لیے حکومتوں، سرمایہ کاروں اور صنعتوں کے مابین مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہوگی۔
ترکیہ اور آسٹریلیا جیسے ممالک کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داریاں جدید دریافت اور پروسیسنگ ٹیکنالوجیز لانے میں مدد دے سکتی ہیں۔
واضح سرمایہ کاری کے فریم ورک، منصفانہ ٹیکس مراعات اور شفاف پالیسیاں پاکستان کو ذمہ دار سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ پرکشش بنائیں گی۔
مراکش کی فاسفیٹ صنعت کی تبدیلی اس بات کی واضح مثال ہے کہ مستقل پالیسی، سائنسی تحقیق اور مؤثر انتظام کیسے قدرتی دولت کو قومی ترقی میں بدل سکتا ہے۔
اسی طرح گھریلو ویلیو چینز کی تعمیر بھی اہم ہے ، تاکہ پاکستان اپنی معدنیات کو خام شکل میں برآمد کرنے کے بجائے زیادہ تر اپنے ملک میں پروسیس کرے۔
معدنی پروسیسنگ کے لیے صوبوں میں خصوصی صنعتی زون کا قیام نہ صرف سرمایہ کاروں کو متوجہ کرے گا بلکہ روزگار کے مواقع پیدا کرکے برآمدات میں اضافہ اور مقامی صنعتوں کو مضبوط بنائے گا۔
اس کے ساتھ تحقیقاتی مراکز اور ٹیکنالوجی سینٹرز بھی کان کنی کے جدید طریقے تیار کرنے اور ماحولیاتی ذمہ داری کو یقینی بنانے میں مدد کریں گے۔
اٹک میں سونا، چنیوٹ میں تانبا، کھوہرہ میں نمک، مسلم باغ میں کرومائٹ اور تھر میں کوئلہ موجود ہے۔ یعینی ہر صوبہ ملکی معدنی معیشت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
پنجاب صنعتی مرکز کی حیثیت سے کام کر سکتا ہے، جبکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا خام مال کی فراہمی کے ذریعے وسیع قومی حکمت عملی کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔
یہ مل کر ایک طاقتور نیٹ ورک بناتے ہیں جو پاکستان کو خود کفالت اور طویل مدتی استحکام کی طرف لے جا سکتا ہے۔
اگر دانشمندی کے ساتھ انتظامات کیے جائیں تو یہ تبدیلی ملک کی درآمدی ایندھن پر انحصار کم کر سکتی ہے، برآمدات میں تنوع لا سکتی ہے اور ہزاروں ہنر مند روزگار پیدا کر سکتی ہے۔
خام استخراج سے لے کر ویلیو ایڈیشن تک کے عمل میں پاکستان عالمی نایاب زمین اور معدنی سپلائی چین میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے، جو مستقبل کی صنعتوں کو طاقت دیتا ہے۔
اب ہچکچانے کا وقت نہیں رہا۔مضبوط پالیسیاں، شفافیت اور قومی عزم کے ساتھ پاکستان اپنی قدرتی دولت کو دیرپا خوشحالی کا ذریعہ بنا سکتا ہے۔
دنیا نایاب زمین کی مارکیٹ میں متبادل تلاش کر رہی ہے اور اگر پاکستان فیصلہ کن قدم اٹھائے تو وہ وہائل کارڈ بن سکتا ہے جو عالمی سپلائی چین کو نئی شکل دے اور اپنی اقتصادی بنیادوں کو مضبوط کرے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025






















Comments
Comments are closed.