پاکستان کی مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیل کی خودمختاری بڑھانے کی کوشش کی مذمت
پاکستان نے اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کے کچھ حصوں پر اپنی نام نہاد ’خودمختاری‘ کو توسیع دینے کی کوشش کی شدید مذمت کی ہے، یہ ردعمل اسرائیلی پارلیمان کی جانب سے ایک مسودۂ قانون کی ابتدائی منظوری کے بعد سامنے آیا ہے جس کے ذریعے اسرائیلی قوانین کو مقبوضہ مغربی کنارے پر لاگو کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور فلسطینی عوام کے لازوال حقوق کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اشتعال انگیز اور غیر قانونی اقدامات خطے میں امن اور استحکام کی جاری کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، بدھ کو اسرائیلی پارلیمنٹ نے مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی قانون لاگو کرنے والے بل کی ابتدائی منظوری دی جو اس زمین کو الحاق کرنے کے مترادف اقدام ہے جسے فلسطینی اپنی ریاست کے لیے چاہتے ہیں۔
ادھر پاکستان نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان غیر قانونی اقدامات کو روکنے، جنگ بندی پر عملدرآمد کروانے اور اسرائیلی قابض افواج کو بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیوں کے لیے جوابدہ ٹھہرانے کے لیے فوری اور فیصلہ کن کارروائی کرے۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان خطے اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر فلسطینی عوام کے حقوق، بشمول حقِ خود ارادیت کے تحفظ اور فلسطینیوں کے لیے امن، انصاف اور وقار کی ضمانت کے لیے پرعزم ہے۔
غزہ وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی کے آغاز سے اسرائیلی فوج نے کم از کم 87 فلسطینی، جن میں عام شہری بھی شامل ہیں شہید کیے ہیں۔
جنگ کے آغاز سے اب تک اسرائیلی حملوں میں غزہ میں 68,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔





















Comments
Comments are closed.