ماہرین نے پاور سیکٹر میں سبسڈی کے نظام میں اصلاحات کے لیے ریگولیٹری سینڈ باکس تجویز کیا ہے، جس کے ذریعے رہائشی شمسی توانائی کے حل میں شمسی توانائی کے انضمام، معقول ٹیرف ڈھانچوں اور سماجی تحفظ کے طریقہ کار کو فروغ دیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ طریقہ کار ملک کے لیے زیادہ پائیدار، منصفانہ اور مؤثر پاور سیکٹر کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
ماہرین نے یہ بات بدھ کو منعقدہ پالیسی ڈائیلاگ کے دوران کہی۔ یہ ڈائیلاگ پائیدار ترقی پالیسی ادارہ (ایس ڈی پی آئی) کی جانب سے جاری کی گئی تحقیقاتی رپورٹ ”پاور سیکٹر کی معیشت کی نئی تعریف: رہائشی شمسی توانائی اور صنعتی گرڈ انضمام کے لیے ریگولیٹری سینڈ باکس“ کے اجرا کے موقع پر منعقد کیا گیا۔
یہ منصوبہ پاکستان کے پاور سیکٹر کو از سرِ نو تشکیل دینے کا ہدف رکھتا ہے، جس کے تحت چھتوں پر نصب شمسی توانائی کے نظام کو مربوط کرنے اور سبسڈی کے نظام کو منظم کرنے کے لیے ایک عملی فریم ورک تیار کیا جائے گا، تاکہ سماجی تحفظ اور صنعتی مسابقت دونوں کو یقینی بنایا جا سکے۔
اجلاس کی نظامت کرتے ہوئے ریسرچ ایسوسی ایٹ (ایس ڈی پی آئی) زینب بابر نے کہا کہ پاکستان کا پاور سیکٹر مالیاتی اور عملی دباؤ کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ موجودہ ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی (ٹی ڈی ایس) نظام، جو ابتدا میں کم آمدنی والے گھرانوں کی مدد کے لیے بنایا گیا تھا، اب ایک مالی بوجھ بن چکا ہے اور وسائل کے غلط استعمال کا باعث بن رہا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025






















Comments
Comments are closed.