وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ اگرچہ کچھ غیرملکی کمپنیاں پاکستان سے اپنا کاروبار سمیٹ چکی ہیں، تاہم نئے سرمایہ کار، بالخصوص مشرقِ وسطیٰ سے ملک کی معیشت میں بھرپور دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔
بدھ کو ایک نجی نیوز چینل کو دیے گئے انٹرویو میں وزیرِ خزانہ نے کہا کہ بین الاقوامی کمپنیوں کے پاکستان سے انخلا کے پیچھے کئی وجوہات ہیں۔
ان کے مطابق اس مسئلے کے دو یا تین پہلو ہیں۔ پہلا یہ کہ عالمی کمپنیاں اپنی ترجیحات کے مطابق اسٹریٹجک فیصلے کرتی ہیں، جیسے کن گاہکوں کے ساتھ کام جاری رکھنا ہے، کن مصنوعات پر توجہ دینی ہے اور کن ممالک میں سرمایہ کاری برقرار رکھنی ہے۔
گزشتہ چند مہینوں میں متعدد عالمی اداروں جن میں پی اینڈ جی، ٹیلی نار، مائیکروسافٹ اور کریم شامل ہیں، نے پاکستان میں اپنے آپریشنز محدود کرنے یا بند کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم وزیرِ خزانہ کے مطابق جیسے کچھ کمپنیاں جا رہی ہیں، ویسے ہی نئی کمپنیاں پاکستان میں قدم رکھ رہی ہیں۔
انہوں نے آرامکو، وافی گروپ اور مشرق بینک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہم مغرب سے مشرق کی جانب سرمایہ کاری کے رجحان میں تبدیلی دیکھ رہے ہیں، جہاں مشرقِ وسطیٰ کے سرمایہ کار پاکستان میں واضح دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔
وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے وزیرِ نجکاری محمد علی اور وزیرِاعظم نے فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری کا اعلان کیا، جو متحدہ عرب امارات کی انٹرنیشنل ہولڈنگ کمپنی (آئی ایچ سی) کو فروخت کیا گیا۔ یہ صرف 14 یا 15 ملین ڈالر کی خریداری نہیں، بلکہ ان کے بڑے منصوبے ہیں جن میں بینک کے نیٹ ورک کو وسعت دینا اور اسے ڈیجیٹل طور پر جدید بنانا شامل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ابوظہبی پورٹس سمیت خطے کے دیگر مالیاتی ادارے بھی پاکستان میں دلچسپی لے رہے ہیں جو ملک کی جانب اسٹریٹجک سرمایہ کاری میں اضافے کی علامت ہے۔
محمد اورنگزیب نے ماضی کے مسائل کا اعتراف کرتے ہوئے کہا اگر غیرملکی سرمایہ کاروں کا سرمایہ یہاں پھنس گیا یا وہ اپنے منافع وطن واپس نہیں بھیج سکے، تو یقیناً اس سے مایوسی پیدا ہوئی، لیکن اب یہ مسائل بڑی حد تک حل کر لیے گئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی مقامی صنعتیں تیزی سے ترقی کر رہی ہیں، ایک قدرتی ارتقاء جاری ہے، مقامی کمپنیاں زیادہ پیداواری اور کم لاگت پر کام کر رہی ہیں جس سے وہ عالمی اداروں کے لیے سخت مقابلہ پیدا کر رہی ہیں۔
وزیرِ خزانہ کے مطابق یہ چوتھا بڑا عنصر ہے، مقامی صنعتوں کے معیار اور کارکردگی میں نمایاں بہتری۔ جیسے میڈ اِن چائنا کے بارے میں پرانی سوچ بدل گئی، ویسے ہی ہماری مقامی کمپنیاں اور کاروباری گروپس بھی اب عالمی معیار کی تنظیموں میں ڈھل رہے ہیں۔






















Comments
Comments are closed.