ٹیکس ماہرین نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے سینئر عہدوں، خصوصاً آپریشنز ونگ میں ریٹائرڈ افسران کی دوبارہ تقرری پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، جس کے باعث ادارے کی کارکردگی، ساکھ اور ادارہ جاتی سالمیت متاثر ہورہی ہے۔
لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن (ایل ٹی بی اے) کے صدر محمد آصف رانا اور جنرل سیکریٹری میاں اسد حنیف نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر میں خاص طور پر آپریشنز ونگ کے تحت پالیسی فیصلوں کی موجودہ سمت ادارہ جاتی انتشار، عوامی بے اطمینانی اور اندرونی بددلی کا باعث بن رہی ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ ریٹائرڈ افسران کی تعیناتی نہ صرف میرٹ اور سروس رولز کو نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ ناقص انتظامی فیصلے اور سطحی پالیسی سازی کا باعث بھی بنی ہے۔
ان کے مطابق آپریشنز ونگ نے ایسے اقدامات کا تسلسل جاری رکھا ہوا ہے جو محض کارکردگی کا تاثر دینے کے لیے ہیں، بجائے اس کے کہ کوئی پائیدار اصلاحات کی جائیں۔
طویل المدتی اصلاحات جیسے کہ ٹیکس بیس میں اضافہ، ڈیجیٹل سہولیات اور ٹیکس دہندگان کا اعتماد حاصل کرنے کی بجائے، ادارہ زبردستی کے طریقے، وقتی پالیسی تبدیلیاں اور نظام میں خلل ڈالنے والے اقدامات پر انحصار کر رہا ہے۔
متن کے مطابق ایک نمایاں مثال انکم ٹیکس ریٹرن فارم کے اجراء میں غیر معمولی تاخیر ہے، جس سے قانونی نظام الاوقات کی خلاف ورزی اور ٹیکس دہندگان کے لیے پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔
متن کے مطابق انکم ٹیکس رولز 2002 کے رول 34 اے کے تحت ٹیکس سال 2025 کے لیے ڈرافٹ ریٹرن فارم 1 دسمبر 2024 تک جاری ہونا تھا، مگر یہ 219 دن کی تاخیر سے 7 جولائی 2025 کو جاری ہوا۔
اسی طرح حتمی فارم جو 31 جنوری 2025 تک جاری ہونا چاہیے تھا، وہ بھی 199 دن کی تاخیر سے 18 اگست 2025 کو نوٹیفائی کیا گیا۔
اس تاخیر کے باعث، ٹیکس دہندگان کو قانونی طور پر دیے گئے 92 دنوں میں سے 49 دن ضائع ہو چکے تھے، جس سے قانونی پیچیدگیاں اور بےچینی پیدا ہوئی۔
ایف بی آر کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم (آئرس) میں بار بار اور غیر مربوط تبدیلیوں نے صورتحال مزید خراب کر دی۔ ان میں غلط ٹیکس کٹوتی، سیکشن 4اے بی کا غلط اطلاق، سیکشن 151 کے تحت منافع پر ٹیکس کا غلط حساب، کیو آر کوڈ اسکیننگ کا غیر واضح نفاذ اور جلد ہی اس کی واپسی، 60 دن بعد پاس ورڈ ری سیٹ کرنے کی پالیسی ، اس کی واپسی، ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں متوقع مارکیٹ ویلیو کا اچانک اضافہ اور 48 گھنٹوں میں اس کا خاتمہ شامل ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ جب قابل اور تجربہ کار حاضر سروس افسران دستیاب ہوں تو ریٹائرڈ افسران کی اہم عہدوں پر تعیناتی سے ادارے میں بددلی، مایوسی اور حوصلہ شکنی پیدا ہو رہی ہے۔ اس سے سینئر افسران کی ترقی کے مواقع بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
یہ عمل نہ صرف سول سرونٹس ایکٹ 1973 کی روح کے خلاف ہے بلکہ ادارہ جاتی شفافیت، تسلسل اور منصفانہ ترقی کے اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔ ان فیصلوں سے حکومت کے وسیع تر ٹیکس اصلاحاتی ایجنڈے کو بھی دھچکا لگا ہے، کیونکہ بجائے اس کے کہ ٹیکس دہندگان کو رضاکارانہ طور پر نظام میں لایا جائے، انہیں مزید دور کیا جا رہا ہے۔
مزید کہا گیا کہ ایف بی آر کی سخت اور غیر متوقع پالیسیوں کے باعث کاروباری ماحول بھی شدید متاثر ہوا ہے اور نتیجتاً ملکی و غیر ملکی کمپنیاں یا تو اپنے آپریشن محدود کر رہی ہیں یا پاکستان سے منتقل ہو رہی ہیں۔
ایل ٹی بی اے نے مطالبہ کیا ہے کہ مستقبل میں کلیدی عہدوں پر تقرریاں صرف حاضر سروس، اہل افسران میں سے سینئرٹی، میرٹ اور سروس ریکارڈ کی بنیاد پر کی جائیں۔
اس کے علاوہ ایف بی آر کے حالیہ آپریشنل فیصلوں اور ان کی قانونی، فنی و طریقہ کار کے مطابق جانچ پڑتال کے لیے ایک آزاد انکوائری کی جائے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025






















Comments
Comments are closed.