اضافی سپلائی کے خدشات کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں کمی
عالمی منڈی میں منگل کے روز تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، جس کی وجہ اضافی سپلائی کے خدشات اور امریکہ و چین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک دنیا کے سب سے بڑے تیل صارف ہیں۔ اس کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ جلد ایک منصفانہ تجارتی معاہدہ طے پا جائے گا۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 14 سینٹ یا 0.2 فیصد کمی کے بعد 60.87 ڈالر فی بیرل پر آ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) نومبر کے معاہدے کی قیمت 0.1 فیصد کم ہو کر 57.45 ڈالر فی بیرل رہی۔ دسمبر کا زیادہ فعال معاہدہ 13 سینٹ یا 0.2 فیصد کمی کے ساتھ 56.89 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔
ٹرمپ نے پیر کے روز کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ایک مضبوط اور منصفانہ تجارتی معاہدہ طے پائے گا، جس سے دونوں ممالک مطمئن ہوں گے۔ تاہم ٹیرف، ٹیکنالوجی اور مارکیٹ تک رسائی جیسے معاملات ابھی حل طلب ہیں۔
ریٹر بش اینڈ ایسوسی ایٹس کے مطابق خام تیل کی قلیل مدتی تجارت کا رجحان اب بھی مندی کا شکار ہے اور قیمتوں میں اضافے پر فروخت کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ تاہم رپورٹ میں کہا گیا کہ جیو پولیٹیکل غیر یقینی صورتحال وقتاً فوقتاً تیل کی منفی سمت کو متوازن کر سکتی ہے۔
ابتدائی رائٹرز سروے کے مطابق امریکہ میں گزشتہ ہفتے خام تیل کے ذخائر میں اضافہ متوقع ہے، جس کی تفصیلات آئندہ چند روز میں شائع ہوں گی۔
ادھر روس میں روزنیفٹ کے زیرانتظام نوو کوئیبیشیفسک ریفائنری کو ڈرون حملے کے بعد بند کر دیا گیا، جبکہ اورینبرگ گیس پلانٹ پر حملے کے باعث قازقستان کو اپنے کراچاغاناک آئل اور گیس فیلڈ کی پیداوار میں 25 سے 30 فیصد کمی کرنا پڑی۔
روس کی تیل کی فراہمی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، کیونکہ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت نے روسی تیل کی خریداری بند نہ کی تو اسے بھاری ٹیرف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
عالمی توانائی ایجنسی کی حالیہ رپورٹ کے بعد تیل کی قیمتوں میں مزید دباؤ آیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ 2026 تک عالمی تیل مارکیٹ میں یومیہ 40 لاکھ بیرل کا اضافی ذخیرہ پیدا ہو سکتا ہے، کیونکہ اوپیک پلس ممالک اور دیگر پروڈیوسرز پیداوار بڑھا رہے ہیں جبکہ طلب میں اضافہ سست روی کا شکار ہے۔

























Comments
Comments are closed.