امریکہ بھر میں ہفتے کے روز لاکھوں افراد نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر پالیسیوں کے خلاف نو کنگز کے عنوان سے مظاہروں میں شرکت کی۔ تمام 50 امریکی ریاستوں میں نکالے گئے ان احتجاجی جلوسوں میں عوام نے صدر کے اقدامات پر شدید غم و غصہ ظاہر کیا، جبکہ ریپبلکن پارٹی نے ان مظاہروں کو ہیٹ امریکہ ریلیز قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
نیو یارک، واشنگٹن، مشی گن اور فلوریڈا سمیت مشرقی ریاستوں میں مظاہرے دن بھر جاری رہے، جبکہ مغربی ریاستوں میں احتجاجی پروگرام بعد ازاں شروع ہونے تھے۔ منتظمین کے مطابق پورے ملک میں 2,700 سے زائد احتجاجی مظاہرے منعقد کیے جا رہے ہیں جن میں لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔
واشنگٹن میں نیشنل مال کے قریب ہزاروں مظاہرین نے یہی ہے جمہوریت کی اصل شکل! اور ڈونلڈ ٹرمپ کو جانا ہوگا! جیسے نعرے لگائے۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں امریکی پرچم اور حکومت مخالف پلے کارڈز تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد میڈیا پر حملے، سیاسی مخالفین کے خلاف مقدمات، اور امیگریشن کریک ڈاؤن نے جمہوری اقدار کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
امریکہ میں حکومتی شٹ ڈاؤن تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے، جس کے دوران ہزاروں وفاقی ملازمین کو فارغ کیا جا چکا ہے اور کانگریس میں ڈیڈلاک برقرار ہے۔ نیویارک کے ٹائمز اسکوائر، بوسٹن کامن اور شکاگو کے گرانٹ پارک میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔
69 سالہ ریٹائرڈ خاتون کولین ہوف مین نے کہا کہ مجھے کبھی یقین نہیں تھا کہ میں اپنی جمہوریت کو یوں مرتے دیکھوں گی۔ یہ حکومت ظالمانہ اور آمرانہ رویہ اپنا رہی ہے۔ میں خاموش نہیں رہ سکتی۔
لاس اینجلس میں مظاہرین نے صدر ٹرمپ کا ڈایپر بیلون فضا میں چھوڑنے کا اعلان کیا، جس میں ایک لاکھ افراد کی شرکت متوقع تھی۔ مظاہرین کے بینرز پر لکھا تھا کہ ہم احتجاج کرتے ہیں کیونکہ ہم امریکہ سے محبت کرتے ہیں! جبکہ کچھ نعرے لگا رہے تھے، “ہمیں اپنا ملک واپس چاہیے!”
اب تک صدر ٹرمپ نے ان احتجاجی مظاہروں پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔
























Comments
Comments are closed.