BR100 Increased By (0.2%)
BR30 Increased By (0.41%)
KSE100 Increased By (0.07%)
KSE30 Increased By (0.23%)
BAFL 57.20 Increased By ▲ 0.46 (0.81%)
BIPL 26.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.55%)
BOP 33.69 Increased By ▲ 0.01 (0.03%)
CNERGY 10.61 Increased By ▲ 0.80 (8.15%)
DFML 18.05 Decreased By ▼ -0.47 (-2.54%)
DGKC 209.90 Increased By ▲ 2.03 (0.98%)
FABL 98.95 Increased By ▲ 0.05 (0.05%)
FCCL 53.74 Increased By ▲ 0.22 (0.41%)
FFL 16.46 Decreased By ▼ -0.22 (-1.32%)
GGL 23.82 Increased By ▲ 0.25 (1.06%)
HBL 302.42 Decreased By ▼ -1.97 (-0.65%)
HUBC 218.94 Increased By ▲ 0.83 (0.38%)
HUMNL 10.54 Decreased By ▼ -0.12 (-1.13%)
KEL 7.28 Decreased By ▼ -0.07 (-0.95%)
LOTCHEM 29.65 Increased By ▲ 0.54 (1.86%)
MLCF 96.36 Increased By ▲ 0.86 (0.9%)
OGDC 318.22 Increased By ▲ 0.28 (0.09%)
PAEL 41.77 Decreased By ▼ -0.06 (-0.14%)
PIBTL 16.81 Increased By ▲ 0.31 (1.88%)
PIOC 296.62 Increased By ▲ 16.61 (5.93%)
PPL 220.17 Increased By ▲ 0.43 (0.2%)
PRL 49.05 Increased By ▲ 4.46 (10%)
SNGP 106.13 Decreased By ▼ -1.36 (-1.27%)
SSGC 29.14 Increased By ▲ 0.21 (0.73%)
TELE 8.82 Increased By ▲ 0.06 (0.68%)
TPLP 12.51 Increased By ▲ 0.41 (3.39%)
TRG 60.22 Increased By ▲ 0.19 (0.32%)
UNITY 10.02 Decreased By ▼ -0.09 (-0.89%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)

پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) نے چین کے سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے ملک کا پہلا ہائیپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ (ایچ ایس-ون) کامیابی سے لانچ کر دیا، جو پاکستان کے خلائی پروگرام میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔

وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق ایچ ایس-ون جدید ہائیپر اسپیکٹرل امیجنگ ٹیکنالوجی سے لیس ہے جو سینکڑوں باریک اسپیکٹرل بینڈز میں ڈیٹا حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

یہ سیٹلائٹ زمین کے استعمال، فصلوں کی صحت، آبی وسائل اور شہری ترقی کی انتہائی درست نگرانی اور تجزیے کو ممکن بنائے گا۔

۔

ماہرین کے مطابق ایچ ایس-ون کی لانچنگ سے پاکستان کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا، خصوصاً پریسیژن ایگریکلچر، ماحولیاتی نگرانی، شہری منصوبہ بندی اور قدرتی آفات کے انتظام جیسے اہم شعبوں میں۔

سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والا ہائی ریزولیوشن ڈیٹا ملک میں وسائل کے بہتر انتظام، پائیدار ترقی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی استعداد بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

یہ سیٹلائٹ چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے منصوبوں میں بھی معاون ثابت ہوگا، کیونکہ یہ جغرافیائی خطرات کی نشاندہی اور پائیدار انفراسٹرکچر کی منصوبہ بندی میں مدد فراہم کرے گا۔

ماہرین کے مطابق یہ کامیابی پاکستان کے خلائی عزائم کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ہے اور سپارکو کے اس عزم کی عکاس ہے کہ خلائی ٹیکنالوجی کو قومی ترقی کے لیے استعمال میں لایا جائے۔

یہ کامیابی پاکستان اور چین کے درمیان پُرامن خلائی تحقیق میں طویل شراکت داری اور سماجی و معاشی ترقی کے فروغ میں ان کے اشتراک کو بھی اجاگر کرتی ہے۔

ڈپٹی وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے پاکستانی اور چینی تکنیکی ٹیموں کو اس تاریخی کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے ان کی پیشہ ورانہ مہارت، محنت اور مثالی تعاون کو سراہا۔

Comments

Comments are closed.