BR100 Increased By (1.45%)
BR30 Increased By (1.41%)
KSE100 Increased By (1.2%)
KSE30 Increased By (1.27%)
BAFL 57.95 Increased By ▲ 0.75 (1.31%)
BIPL 27.20 Increased By ▲ 0.31 (1.15%)
BOP 34.47 Increased By ▲ 0.78 (2.32%)
CNERGY 10.94 Increased By ▲ 0.33 (3.11%)
DFML 18.40 Increased By ▲ 0.35 (1.94%)
DGKC 212.00 Increased By ▲ 2.10 (1%)
FABL 101.32 Increased By ▲ 2.37 (2.4%)
FCCL 54.80 Increased By ▲ 1.06 (1.97%)
FFL 16.76 Increased By ▲ 0.30 (1.82%)
GGL 24.70 Increased By ▲ 0.88 (3.69%)
HBL 305.50 Increased By ▲ 3.08 (1.02%)
HUBC 222.40 Increased By ▲ 3.46 (1.58%)
HUMNL 10.63 Increased By ▲ 0.09 (0.85%)
KEL 7.47 Increased By ▲ 0.19 (2.61%)
LOTCHEM 29.92 Increased By ▲ 0.27 (0.91%)
MLCF 96.88 Increased By ▲ 0.52 (0.54%)
OGDC 320.82 Increased By ▲ 2.60 (0.82%)
PAEL 43.28 Increased By ▲ 1.51 (3.62%)
PIBTL 17.15 Increased By ▲ 0.34 (2.02%)
PIOC 299.20 Increased By ▲ 2.58 (0.87%)
PPL 223.48 Increased By ▲ 3.31 (1.5%)
PRL 52.30 Increased By ▲ 3.25 (6.63%)
SNGP 108.61 Increased By ▲ 2.48 (2.34%)
SSGC 29.72 Increased By ▲ 0.58 (1.99%)
TELE 8.95 Increased By ▲ 0.13 (1.47%)
TPLP 13.20 Increased By ▲ 0.69 (5.52%)
TRG 60.65 Increased By ▲ 0.43 (0.71%)
UNITY 10.61 Increased By ▲ 0.59 (5.89%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.03 (2.44%)

پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) نے چین کے سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے ملک کا پہلا ہائیپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ (ایچ ایس-ون) کامیابی سے لانچ کر دیا، جو پاکستان کے خلائی پروگرام میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔

وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق ایچ ایس-ون جدید ہائیپر اسپیکٹرل امیجنگ ٹیکنالوجی سے لیس ہے جو سینکڑوں باریک اسپیکٹرل بینڈز میں ڈیٹا حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

یہ سیٹلائٹ زمین کے استعمال، فصلوں کی صحت، آبی وسائل اور شہری ترقی کی انتہائی درست نگرانی اور تجزیے کو ممکن بنائے گا۔

۔

ماہرین کے مطابق ایچ ایس-ون کی لانچنگ سے پاکستان کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا، خصوصاً پریسیژن ایگریکلچر، ماحولیاتی نگرانی، شہری منصوبہ بندی اور قدرتی آفات کے انتظام جیسے اہم شعبوں میں۔

سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والا ہائی ریزولیوشن ڈیٹا ملک میں وسائل کے بہتر انتظام، پائیدار ترقی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی استعداد بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

یہ سیٹلائٹ چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے منصوبوں میں بھی معاون ثابت ہوگا، کیونکہ یہ جغرافیائی خطرات کی نشاندہی اور پائیدار انفراسٹرکچر کی منصوبہ بندی میں مدد فراہم کرے گا۔

ماہرین کے مطابق یہ کامیابی پاکستان کے خلائی عزائم کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ہے اور سپارکو کے اس عزم کی عکاس ہے کہ خلائی ٹیکنالوجی کو قومی ترقی کے لیے استعمال میں لایا جائے۔

یہ کامیابی پاکستان اور چین کے درمیان پُرامن خلائی تحقیق میں طویل شراکت داری اور سماجی و معاشی ترقی کے فروغ میں ان کے اشتراک کو بھی اجاگر کرتی ہے۔

ڈپٹی وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے پاکستانی اور چینی تکنیکی ٹیموں کو اس تاریخی کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے ان کی پیشہ ورانہ مہارت، محنت اور مثالی تعاون کو سراہا۔

Comments

Comments are closed.