پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں بدھ کو کاروباری دن اتار چڑھاؤ کا شکار رہا، جب کہ کے ایس ای 100 انڈیکس 210 پوائنٹس کے معمولی اضافے کے ساتھ بند ہوا۔ سیشن کے اختتام سے قبل منافع سمیٹنے کے رجحان نے ابتدائی تیزی کو محدود کر دیا۔
کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا کیونکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور پاکستانی حکام کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ (ایس ایل اے) طے پانے کی خبر پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا، جس کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس دورانِ کاروبار بلند ترین سطح 167,561.69 پوائنٹس تک پہنچا۔
تاہم سیشن کے دوسرے حصے میں منافع سمیٹنے اور غیر یقینی کاروباری رجحان کے باعث سرمایہ کار محتاط دکھائی دیے، جس سے مارکیٹ کے ابتدائی منافع میں کمی واقع ہوئی۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 210.36 پوائنٹس یا 0.13 فیصد اضافے سے 165,686.38 پوائنٹس پر بند ہوا۔
ایک اہم پیش رفت کے طور پر آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان 37 ماہ کے ای ایف ایف کے تحت دوسرے جائزے اور 28 ماہ کے آر ایس ایف کے تحت پہلے جائزے پر اسٹاف سطح کا معاہدہ طے پا گیا۔
آئی ایم ایف کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ بیان کے مطابق اسٹاف سطح کا معاہدہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے۔ منظوری کے بعد پاکستان کو ای ایف ایف کے تحت تقریباً 1.0 ارب ڈالر (760 ملین ایس ڈی آر) اور آر ایس ایف کے تحت تقریباً 200 ملین ڈالر (154 ملین ایس ڈی آر) تک ملیں گے جس سے دونوں پروگراموں کے تحت کل ادائیگیاں تقریباً 3.3 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔
یاد رہے کہ منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں تاریخی تیزی دیکھی گئی، گزشتہ روز کے ایس ای 100 انڈیکس 7,032.60 پوائنٹس کے اضافے سے 165,476.02 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر بدھ کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں محتاط بحالی دیکھی گئی، جس کی وجہ فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول کے نرم لہجے پر مبنی بیانات اور وال اسٹریٹ پر بینکوں کے مثبت مالی نتائج رہے۔ تاہم امریکہ اور چین کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کے جوش و خروش کو محدود رکھا۔
پاول نے منگل کو اشارہ دیا کہ شرحِ سود میں مزید کمی کا امکان ابھی موجود ہے اور کہا کہ مرکزی بینک کی طویل عرصے سے جاری بیلنس شیٹ کو سکڑنے کی کوشش اب اختتام کے قریب پہنچ سکتی ہے۔
ان کے یہ بیانات، جنہیں بعض ماہرین نے نرم پالیسی کے طور پر دیکھا نے مارکیٹ کو معمولی تقویت دی اور اس سال مزید نرمی کی توقعات کو بڑھایا، جس کے تحت دسمبر تک تقریباً 48 بیسس پوائنٹس کی کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
امریکی بینکنگ شعبے کے بڑے اداروں کے مضبوط مالی نتائج اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے 2025 کے لیے عالمی معاشی نمو کے تخمینے میں اضافے نے بھی مارکیٹ کو سہارا فراہم کیا، جو حال ہی میں امریکا۔چین تجارتی تعلقات میں کشیدگی کے نئے اشاروں کے بعد دباؤ کا شکار تھی۔
ایم ایس سی آئی کے مطابق جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص کا جامع انڈیکس 0.45 فیصد بڑھا، جب کہ نکئی انڈیکس پچھلے سیشن میں 2.6 فیصد کمی کے بعد آج 0.8 فیصد کے اضافے سے بند ہوا۔
دوسری جانب نیس ڈیک فیوچرز اور ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں بھی تقریباً 0.1 فیصد کا معمولی اضافہ دیکھا گیا۔
ادھر انٹر بینک مارکیٹ میں بدھ کے روز پاکستانی روپیہ نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری دکھائی اور 0.01 فیصد کے اضافے کے ساتھ 281.12 روپے پر بند ہوا، یعنی روپے کی قدر میں 3 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
تمام حصص کے مجموعی انڈیکس پر کاروباری حجم بڑھ کر 1.528 ارب حصص تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سیشن میں 1.179 ارب حصص تھا۔ حصص کی مجموعی مالیت بھی بڑھ کر 68.60 ارب روپے ہوگئی، جو پچھلے کاروباری روز 59.20 ارب روپے تھی۔
کے الیکٹرک لمیٹڈ کاروباری حجم میں سرِفہرست رہی، جس کے 383.10 ملین حصص کا کاروبار ہوا۔ اس کے بعد بینک آف پنجاب کے 142.13 ملین اور ورلڈ کال ٹیلی کام کے 116.45 ملین حصص ٹریڈ ہوئے۔
بدھ کے روز 489 کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت ہوئی، جن میں سے 249 کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ، 204 میں کمی جبکہ 36 کے نرخ مستحکم رہے۔

























Comments
Comments are closed.