پی پی آئی بی کا بورڈ اراکین کیلئے نیا ضابطہ اخلاق، رقم، تحائف یا فوائد قبول کرنے سے روک دیا گیا
باخبر ذرائع نے بزنس کو بتایا کہ غیر ضروری اثر و رسوخ اور پسِ پردہ معاملات کے خلاف واضح حد مقرر کرنے کے اقدام کے طور پر پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) نے اپنے بورڈ اراکین کے لیے ایک ضابطہ اخلاق تیار کر لیا ہے، جس کے تحت اراکین پر واضح طور پر پابندی عائد کی گئی ہے کہ وہ تنظیم کے ساتھ کاروبار کرنے والی کسی بھی فریق سے رقم، تحائف یا کسی قسم کے فوائد طلب نہیں کر سکتے۔
پی پی آئی بی کی ویب سائٹ کے مطابق، وفاقی سیکریٹری برائے پاور ڈویژن اس 14 رکنی بورڈ کے چیئرمین ہیں، جس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے نمائندے شامل ہیں، تاہم نجی رکن کی نشست اس وقت خالی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز (گورننس اینڈ آپریشنز) ایکٹ 2023 کے تحت ہر سرکاری ادارے کے لیے لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ڈائریکٹرز اور ملازمین کے لیے الگ الگ ضابطہ اخلاق تیار کرے۔ ایکٹ کی شق 19(2) کے مطابق بورڈ کو اپنے ڈائریکٹرز اور ملازمین کے لیے ایسا ضابطہ تیار کرنا ہوگا جس میں دیانت داری، جواب دہی، مفادات کے تصادم، راز داری، ادارے کے اثاثوں کا تحفظ، اور قوانین کی پاسداری جیسے بنیادی اصول شامل ہوں۔
اس ضابطے کے تحت بورڈ اراکین سے توقع کی گئی ہے کہ وہ ایمانداری، شفافیت اور اخلاقیات کے اعلیٰ معیار پر عمل کریں گے۔ وہ ایسے وعدے یا دعوے نہیں کریں گے جنہیں ادارہ پورا نہ کر سکے، اور اپنے فرائض منصفانہ، شفاف اور مؤثر انداز میں انجام دیں گے۔ اراکین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ادارے کی جائیداد، ریکارڈ اور معلومات کو فراڈ، چوری یا غلط استعمال سے محفوظ رکھیں اور کسی بھی ذاتی فائدے کے لیے ادارے کی معلومات استعمال نہ کریں۔
مزید برآں، ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ بورڈ اراکین کسی بھی ایسے عمل میں شامل نہیں ہوں گے جو بددیانتی، دھوکہ دہی یا مفادات کے تصادم کا باعث بنے۔ اگر کسی معاملے میں ذاتی مفاد شامل ہو تو رکن اس بحث یا ووٹنگ میں حصہ نہیں لے گا۔
رازداری کے حوالے سے ضابطے میں واضح کیا گیا ہے کہ اراکین ادارے کے کسی منصوبے یا سرگرمی سے متعلق معلومات کو بیرونی افراد یا اداروں تک نہیں پہنچائیں گے۔ غیر سرکاری معلومات کے غلط استعمال کو سنگین خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق، پی پی آئی بی بورڈ اس ضابطے کی نگرانی اور تشریح کا مجاز ادارہ ہوگا اور وقتاً فوقتاً اس میں ضروری ترامیم متعارف کرائے گا۔ اگر کوئی قانونی تبدیلی واقع ہوتی ہے تو اس کی مطابقت میں ضابطے کو فوری طور پر اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق، ضابطے کی کسی بھی خلاف ورزی کی تحقیقات خفیہ انداز میں کی جائیں گی تاکہ ادارے میں شفافیت اور احتساب کا عمل برقرار رہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.