فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف سی سی آئی) کے صدر فاروق یوسف شیخ نے کہا ہے کہ مشکل معاشی حالات کے باوجود کاروباری برادری معیشت کو مضبوط اور مستحکم بنیاد پر استوار کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ سازگار ماحول فراہم کرے اور نجی شعبے سے مشاورت کے ذریعے طویل مدتی اقتصادی پالیسیاں مرتب کرے۔
انہوں نے کہا کہ معیشت میں غیر یقینی صورتحال کے باعث برآمدات میں کمی سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے، جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ فیصل آباد کی تاجر برادری خاص طور پر ایف سی سی آئی نے اس کمی کی بنیادی وجوہات کی نشاندہی کر کے حکومت کو عملی تجاویز دی ہیں، مگر ان پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔
فاروق یوسف شیخ کے مطابق حکومت کا برآمدات کو 100 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف درست ہے، لیکن اس کے لیے توانائی کے نرخ اور پالیسی ریٹ کو علاقائی ممالک کے برابر لانا ضروری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بجلی کے نرخ 9 سینٹس فی یونٹ تک لائے جائیں اور پالیسی ریٹ سنگل ڈیجٹ میں رکھا جائے ، تاکہ عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ پالیسیوں کا تسلسل اور کم از کم دس سال کی معاشی منصوبہ بندی سرمایہ کاروں اور برآمد کنندگان کو طویل مدتی فیصلے کرنے میں مدد دے گی۔ انہوں نے افریقہ جیسی ابھرتی ہوئی منڈی سمیت نئی منڈیوں کی تلاش، غیر روایتی مصنوعات کی برآمد اور ٹیکسٹائل سے آگے بڑھ کر تنوع کی ضرورت پر بھی زور دیا ۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ ایف سی سی آئی کا ریسرچ ونگ اس سلسلے میں سفارشات تیار کر رہا ہے جنہیں سیمینارز کے ذریعے پیش کیا جائے گا اور حکومت کو چاہیے کہ وہ ان کوششوں کی حوصلہ افزائی اور مراعات کی فراہمی پر غور کرے۔






















Comments
Comments are closed.