امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امیگریشن پالیسیوں پر کڑی پابندیوں کے بعد بھارت میں امریکی شہریت یا امریکی ملازمت رکھنے والے بھارتی شہریوں سے شادی کے رجحان میں نمایاں کمی آئی ہے۔ شمالی بھارتی ریاست ہریانہ کی 19 سالہ میڈیکل طالبہ سِدھی شرما نے بھی امریکا میں بسنے کے خواب کو ترک کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے میرے لیے دروازہ بند کر دیا ہے۔
ماہرین اور میچ میکنگ ایجنسیوں کے مطابق امریکا کی سخت امیگریشن پالیسیوں، خاص طور پر ایچ-ون بی ویزا میں تبدیلیوں کے باعث بھارتی خاندان اب اپنے بچوں کی شادی امریکا میں مقیم این آر آئی شہریوں سے کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں، کیونکہ ان کے روزگار یا امیگریشن حیثیت کے غیر یقینی ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
بھارتی میچ میکر وناجا راؤ نے بتایا کہ پہلے بیرونِ ملک مقیم مردوں کی بہت مانگ تھی لیکن ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ رجحان تیزی سے کم ہوا ہے، خاص طور پر پچھلے چھ ماہ میں۔ کئی خاندان شادیوں کو مؤخر کر رہے ہیں، کیونکہ ایچ-ون بی اور دیگر ورک ویزا پالیسیوں میں تبدیلیوں نے غیر یقینی کی فضا پیدا کر دی ہے۔
ماہرین کے مطابق ویزا پالیسی میں سختی سے بھارتی شادی مارکیٹ پر براہِ راست اثر پڑتا ہے۔ ٹورنٹو میٹروپولیٹن یونیورسٹی کی پروفیسر ہرشیتا یالامارٹی کا کہنا ہے کہ ہر بار جب ایچ -ون بی ویزا پر پابندی کی بات ہوتی ہے، شادیوں کا رجحان بھی متاثر ہوتا ہے۔
اب کچھ بھارتی خاندان امریکی شہریوں کے بجائے کینیڈا، برطانیہ، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ میں مقیم بھارتیوں سے تعلقات ترجیح دے رہے ہیں۔ ماچ میکنگ پلیٹ فارمز نے بھی نئی حقیقتوں کے مطابق خود کو ڈھال لیا ہے، جیسے کہ Knot.dating نے اپنے صارفین کے لیے ”امریکی ویزا اسٹیٹس فلٹر“ متعارف کرایا ہے تاکہ شادی سے پہلے امیدوار کا امیگریشن اسٹیٹس واضح ہو۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کی نئی امیگریشن پالیسیوں نے نہ صرف بھارت میں امریکن ڈریم کو متاثر کیا ہے بلکہ ہزاروں بھارتی طلبہ اور نوجوانوں کو اپنی زندگی کے فیصلے ازسرِنو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔






















Comments
Comments are closed.