کوئٹہ میں ایف سی ہیڈکوارٹر کے قریب خودکش دھماکے میں 10 افراد جاں بحق اور 33 زخمی ہوگئے۔
آج نیوز کے مطابق دھماکے کی آواز ماڈل ٹاؤن اور اطراف میں دور تک سنی گئی جو کہ ایک حساس علاقہ ہے۔ خودکش دھماکے کے نتیجے میں قریبی گھروں اور عمارتوں کی کھڑکیاں شیشے ٹوٹ گئے۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق یہ خودکش حملہ فتنۃ الہندوستان کی کارروائی ہے، حملہ آور ایف سی کی وردی میں ملبوس تھا اور اس کے ساتھ 5 دیگر دہشت گرد بھی تھے۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق فورسز کی بروقت جوابی کارروائی میں خودکش حملہ آور سمیت تمام 6 دہشت گرد مارے گئے جبکہ فائرنگ اور دھماکے کے نتیجے میں ایف سی کے 2 جوان زخمی ہوئے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق ہلاک اور زخمی افراد کی لاشیں مختلف اسپتالوں میں منتقل کردی گئی ہیں۔ مزید زخمیوں کے دوران علاج انتقال کرنے سے ہلاکتوں کی تعداد 5 سے بڑھ کر 10 ہوگئی ہے۔
بلوچستان کے وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے دھماکے میں 10 افراد کے مارے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ زخمی افراد اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔
مزید برآں وزیر صحت بخت محمد کاکڑ اور سیکریٹری صحت مجیب الرحمٰن نے سول اسپتال کوئٹہ، بی ایم سی اسپتال کوئٹہ اور ٹراما سینٹر میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق تمام کنسلٹنٹس، ڈاکٹرز، فارماسسٹ، اسٹاف نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف اسپتالوں میں موجود ہیں۔
گزشتہ چند سالوں کے دوران پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے خاص طور پر افغانستان کے ہمسایہ صوبوں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیزکی رپورٹ کے مطابق، اگست میں پاکستان نے ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں عسکریت پسندی کے سب سے مہلک مہینے کا سامنا کیا، اس دوران 143 حملے ہوئے جن میں 194 افراد جاں بحق اور 231 زخمی ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ سندھ، پنجاب اور گلگت بلتستان میں بھی واقعات رپورٹ ہوئے لیکن زیادہ نقصان خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہوا۔
سکیورٹی فورسز نے ملک بھر میں 41 کارروائیاں کیں جن میں کم از کم 100 عسکریت پسند ہلاک اور 31 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ سب سے مہلک آپریشن بلوچستان میں ہوئے جہاں 50 عسکریت پسند، بشمول اہم بی ایل اے اور بی ایل ایف کمانڈرز ہلاک کیے گئے، جبکہ خیبر پختونخوا اور سابق فاٹا میں سخت آپریشنز میں 48 عسکریت پسند مارے گئے لیکن اس کے ساتھ شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے جانی نقصان بھی ہوئے۔ سندھ، پنجاب، آزاد جموں و کشمیر اور وفاقی دارالحکومت میں انٹیلی جنس پر مبنی چھاپوں کے دوران گرفتاریاں عمل میں آئیں اور نقصانات معمولی رہے جس سے بڑھتے تنازع کے تناظر میں زیادہ مہلک اور فعال سکیورٹی حکمت عملی کی عکاسی ہوتی ہے۔























Comments
Comments are closed.