ریٹرن فائلنگ کی آج آخری تاریخ: ایف بی آر کا لیٹ فائلرز کو جرمانوں اور اسٹیٹس کی تبدیلی کی وارننگ
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس دہندگان کو واضح طور پر آگاہ کیا ہے کہ 30 ستمبر کی آخری تاریخ کے بعد ریٹرن جمع کرانے والوں کا اسٹیٹس فائلر سے بدل کر لیٹ فائلر کردیا جائے گا اور ان پر جرمانے بھی عائد ہوں گے۔
وفاقی ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) ہیڈکوارٹرز میں پیر کو ایک کیس کی سماعت کے دوران ایف بی آر ٹیم نے بتایا کہ ٹیکس دہندگان کو درپیش مشکلات کے پیش نظر انکم ٹیکس ریٹرن فارم سے تخمینی منصفانہ مارکیٹ ویلیو کا خانہ ختم کر دیا گیا ہے۔ ایف بی آر ٹیم نے ایف ٹی او سے درخواست کی کہ ریٹرن فائلنگ کے کیس میں پیرا وائز کمنٹس جمع کرانے کے لیے قریبی تاریخ دی جائے۔
ایف بی آر کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ بعض میڈیا پلیٹ فارمز پر پھیلنے والی غیر مصدقہ رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ٹیکس ایئر 2025 کے لیے انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی ڈیڈلائن میں توسیع کر دی جائے گی۔ بعض عناصر نے اس افواہ کو حالیہ سیلاب سے بھی منسلک کرنے کی کوشش کی ہے۔
ایف بی آر نے ان خبروں کو بے بنیاد، غلط اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ریٹرن فائل کرنے کی آخری تاریخ میں کسی قسم کی توسیع نہیں کی جائے گی۔ زیادہ تر ٹیکس دہندگان ان علاقوں میں رہائش پذیر ہیں جو سیلاب سے متاثر نہیں ہوئے اور ان کے پاس ریٹرن فائل کرنے کی قومی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے کافی وقت موجود ہے۔
ادارے نے آئی آر آئی ایس سسٹم کی سست روی سے متعلق خبروں کو بھی بے بنیاد قرار دیا اور بتایا کہ پلیٹ فارم مکمل طور پر فعال ہے اور نئے آسان ریٹرن فارم کے ذریعے ٹیکس دہندگان باآسانی اپنے ریٹرن جمع کرا سکتے ہیں۔
ایف بی آر نے خبردار کیا کہ مقررہ تاریخ تک ریٹرن فائل نہ کرنے کی صورت میں لیٹ فائلر اسٹیٹس اور جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ادارے نے تمام اہل ٹیکس دہندگان پر زور دیا کہ وہ 30 ستمبر 2025 سے قبل درست اور شفاف طریقے سے اپنے ریٹرن فائل کریں تاکہ کسی قانونی پیچیدگی سے بچا جاسکے۔
ایف بی آر نے وضاحت کی کہ انتہائی مشکلات کی صورت میں ٹیکس دہندگان قانون کے مطابق متعلقہ کمیٹی کی منظوری سے ریٹرن فائل کرنے کے لیے 15 دن تک کی توسیع حاصل کر سکتے ہیں، تاہم اس کے لیے واجب الادا ٹیکسز 30 ستمبر تک ادا کرنا لازم ہوگا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025
























Comments
Comments are closed.