عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) نے بدھ کے روز بیجنگ کے اس فیصلے کو سراہا ہے جس کے تحت چین نے مستقبل کی مذاکراتی نشستوں میں اپنے لیے نئی خصوصی رعایتیں نہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم کی ڈائریکٹر جنرل نگوزی اوکونجو ایویلا نے اسے ایک متوازن اور منصفانہ عالمی تجارتی نظام کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب چینی وزیر اعظم لی چیانگ نے منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ایک اعلیٰ سطح اجلاس میں واضح کیا کہ ان کا ملک آئندہ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن مذاکرات میں خصوصی اور امتیازی سلوک کی مزید درخواست نہیں کرے گا۔ یہ رعایتیں عموماً ترقی پذیر ممالک کو دی جاتی ہیں تاکہ وہ تجارتی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کے لیے زیادہ وقت حاصل کر سکیں یا تجارتی مواقع میں اضافہ کر سکیں۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شِنہوا کے مطابق، لی چیانگ نے کہا کہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہونے کے ناطے چین ایک ذمہ دار بڑے ترقی پذیر ملک کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ ترقی پذیر ممالک کو ڈبلیو ٹی او معاہدوں کے تحت خصوصی حقوق حاصل ہیں، تاہم بعض ترقی یافتہ ممالک، خصوصاً امریکہ، بارہا یہ مؤقف اختیار کرتے آئے ہیں کہ چین اب ترقی پذیر ملک کا درجہ برقرار رکھنے کا اہل نہیں رہا کیونکہ وہ دنیا کا سب سے بڑا تجارتی ملک بن چکا ہے۔ واشنگٹن طویل عرصے سے چین پر زور دیتا آیا ہے کہ وہ ترقی پذیر ممالک کو حاصل خصوصی رعایتیں چھوڑ دے۔
چین کے اس تازہ اعلان کو عالمی تجارتی تنظیم نے ایک مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام کثیر الجہتی تجارتی نظام کو مزید شفاف اور متوازن بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
























Comments
Comments are closed.