گیس کی تقسیم پر تاحال کوئی باضابطہ فیصلہ نہیں ہوا، ماری انرجیز
پاکستان کی بڑی ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کمپنی، ماری انرجیز لمیٹڈ نے کہا ہے کہ گیس کی تقسیم کے حوالے سے حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ فیصلہ تاحال نہیں کیا گیا۔ کمپنی کے مطابق ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی سفارشات اب بھی پٹرولیم ڈویژن کے زیرِ غور ہیں۔
بدھ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو جاری نوٹس میں کمپنی نے وضاحت کی کہ حکومت نے ابھی تک گیس کی تقسیم پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
ماری نے بتایا کہ یہ معاملہ 16 ستمبر 2025 کو ہونے والے ایک اجلاس میں ڈپٹی وزیراعظم/وزیر خارجہ کی سربراہی میں قائم کمیٹی زیرِ بحث لائی۔ کمپنی نے مزید کہا کہ ہمیں علم ہے کہ کمیٹی کی سفارشات پٹرولیم ڈویژن کو بھیجی جائیں گی تاکہ ان پر غور کیا جاسکے اور حکومت سے منظوری کے لیے مزید کارروائی کی جا سکے۔
واضح رہے کہ بزنس ریکارڈر نے اپنے ذرائع کے حوالے سے خبر دی تھی کہ وفاقی حکومت نے غازیج/شوال ریزروائر (میری گیس فیلڈ) سے 222 ایم ایم سی ایف ڈی مقامی گیس 3 کھاد ساز کارخانوں کو اوگرا کی مقررہ قیمت پر فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ یوریا اور ڈی اے پی کی قیمتیں قابلِ برداشت سطح پر رکھی جاسکیں۔
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کی منظوری سے قبل اس فیصلے کو اسحاق ڈار کی سربراہی میں ایک کمیٹی نے حتمی شکل دیا۔
ماری انرجیز لمیٹڈ (میری انرجیز)، جو ضلع گھوٹکی، سندھ میں واقع میری گیس فیلڈ کی آپریٹر ہے، چار عمودی طور پر جڑی ہوئی ریزروائرز سے گیس پیدا کرتی ہے جن میں حبیب راہی لائم اسٹون ، سوئی اپر/مین لائم اسٹون ، غازیج/شوال اور گورو-بی ڈیپ شامل ہیں۔
دسمبر 2016 میں ای سی سی نے ماری انرجیز کو اجازت دی کہ وہ ایچ آر ایل گیس کی غیر استعمال شدہ گیس کی مقدار کو اپنے موجودہ صارفین کو فراہم کرے، جس میں کھاد کے شعبے کو ترجیح دی گئی۔ اس فیصلے کے بعد سے، ماری انرجیز گینکو-ٹو (گڈو) کو اصل میں مختص کی گئی ایچ آر ایل گیس کو ماری نیٹ ورک پر موجود اینگرو فرٹیلائزر کے پلانٹ کو فراہم کر رہی ہے۔






















Comments
Comments are closed.